اذان کے بعد صلاۃ وسلام اور نماز کے بعد سلام پڑھنے کے متعلق شرعی حکم
(1) اذان کے بعد صلاۃ پڑھنا کیسا ہے؟ (۲) بعد نماز حضور نبی کریم صلی اسلام پر سلام پڑھنا کیسا ہے؟ بحکم شریعت مطہرہ شرعی ثبوت بحوالہ کتب مطلع فرمائیں عین عنایت ہوگی۔ المستفتی : نوری اصغر علی میلانی، احمد حسین و غیره ساکنان موضع بھوجی پورہ پیپل سانہ ضلع بریلی شریف
الجواب: جائز و حسن ہے اور تمام دیار و امصار میں سینکڑوں برس سے رائج بین المسلمین ہے۔ در مختار میں ہے: التسليم بعد الأذان حدث في ربيع الآخر سنة سبعمائة واحدى وثمانين في عشاء ليلة الاثنين ثم يوم الجمعة ثم بعد عشر سنين فى الكل الا المغرب ثم فيها مرتين وهو بدعة حسنة الخ() امام شعرانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں کہ مصر میں روافض کے دور حکومت میں اذان کے بعد خلیفہ اور اس کے وزراء پر تسلیم کا طریقہ تھا یہاں تک کہ جب حاکم بامر اللہ کی وفات ہوئی اور اسکی بہن کو والی کیا تو اسے اور اسکی وزیرات کو سلام کرتے تھے تو جب بادشاہ عادل صلاح الدین ایوبی نے تمام حکومت سمجھ لی تو انہوں نے بدعتیں ختم فرمائیں اور حضور علیہ السلام پر صلاۃ وسلام کا حکم دیا اور تمام شہروں اور دیہاتوں کے باشندوں کو یہی حکم فرمایا تو اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ کشف الغمہ میں فرماتے ہیں: كان فى ايام الروافض بمصر شرعوا التسليم على الخليفة ووزراءه بعد الأذان الى ان توفى الحاكم بأمر الله وولواخته فسلموا عليها و على وزرائها من النساء فلما تولى الملک العادل صلاح الدين بن ايوب ابطل هذه البدع وامر الموذنين بالصلاة والتسليم على رسول الله و بدل تلك البدعة وامر بها اهل الامصار والقرى فجزاہ اللہ خیرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ بھی جائز ومستحسن ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کافی : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( ) اللہ تعالیٰ نے ہمیں نبی کریم ساینا یہ ہم پر درود و سلام کا حکم مطلق بے قید وقت و کیفیت فرما یا توکسی خاص وقت میں ممانعت کا مدعی قرآن وحدیث سے دلیل دے اور ہرگز دلیل نہ دے سکے گا۔ قل ھانوا ابرهانکم ان کنتم صادقین۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۷ / ذوالحجہ ۱۴۰۰