اذان کے بعد صلاۃ و سلام پڑھنے کا حکم اور اذان و صلوۃ کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیئے
صلوۃ پڑھنا کیسا ہے؟ اذان و صلوۃ کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیئے ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ہمارے محلے میں چند دنوں سے صلاۃ کا آغاز ہوا ہے جس کی وجہ سے کچھ نام نہاد مسلمان ( یعنی دیوبندی حضرات بہت ناراض ہیں اور صلاۃ بند کرنے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں لہذا اس کے متعلق مدلل و مفصل حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور صلاۃ و اذان کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہئے ؟ حضور والا سے گزارش ہے کہ دشمنوں کا دندان شکن جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: صلاۃ بعد اذان بلاشبہ جائز و مستحسن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مطلق حضور سرور عالم صلی پہ تم پر صلاۃ وسلام عرض کرنے کا حکم دیا اور کسی وقت میں ممانعت نہ فرمائی ۔ قال اللہ تعالیٰ : إن الله و مليكتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِهَا اور جب اللہ تعالیٰ نے حکم مطلق دیا اور کوئی وقت مقرر نہ فرمایا تو جس وقت بھی سرکار ابد قرار علیہ الصلاة والسلام پر درود شریف پڑھا جائے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری ہوگی تو جواز صلاۃ مروجہ کے لئے یہی کافی اور جو منع کرتا ہے وہ اللہ کے حکم سے روکتا ہے۔ بلا دلیل قرآن کریم کے حکم کو مقید کرنا اور قرآن کریم پر افترا کرنا ہے۔ دلیل ممانعت اس کے ذمہ ہے وہ قرآن وحدیث سے ممانعت دکھائے اور ہرگز نہ دکھائے تو اس کا منع کرنا ہی خود ممنوع و ناجائز و بدعت سیئہ ہے۔ قال تعالیٰ: وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَلْ وَهُذَا حَرَامُ - الآية ()() بالجملہ صلاۃ مروجہ با تفاق علماء جائز و مستحسن اور صد ہا سال سے رائج ہے۔ در مختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث فى ربيع الآخر سنة سبع مائة واحدى وثمانين في عشاء ليلة الاثنين ثم يوم الجمعة ثم بعد عشر سنين فى الكل الالمغرب ثم فيها مرتين وهو بدعة حسنة “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم اور صلاۃ واذان کے درمیان تین آیت کی مقدار فاصلہ ہونا چاہئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ