جماعت سے قبل صلوۃ و سلام کے ذریعے نماز کا اعلان (تثویب) کرنے کا شرعی حکم
صلوٰۃ کا پکارنا کیسا ہے؟ ہمارے یہاں کی مسجد میں فجر وظہر وعصر وعشاء کی جماعت سے پانچ منٹ قبل الصلاة والسلام علیک یا رسول اللہ الصلاۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ الصلاۃ والسلام علیک یا نبی اللہ کی صدا بلند ہوتی ہے کہ ہر نمازی کو معلوم ہو جائے کہ اب جماعت تیار ہے صرف پانچ منٹ باقی ہیں یہ صلوۃ عرصہ طویل سے ہوتی چلی آرہی ہے لیکن اب موجودہ امام صاحب نے بند کر وادی اور انکا یہ کہنا ہے کہ اذان مشروع ہے اور صلوٰۃ قرآن وحدیث سے یا کہیں سے ثابت نہیں اور نہ ہی دوسری جگہ ہوتی ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ قرآن وحدیث سے ثابت کر دیں تو ہم کہلا دیں گے لہذا برائے کرم مفصل مدلل حکم شریعت سے آگاہ فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ المستفتی محمد مشتاق حسین، بزر یہ جلال گرشاہ جہانپور
الجواب: یہ تثویب ہے یعنی اعلان نماز بعد اعلان اول اور اس کیلئے کوئی صیغہ مقرر نہیں ہے اور متاخرین کے نزدیک تثویب تمام نمازوں کے لئے مستحسن ہے۔ شرح وقایہ میں ہے: واستحسن المتأخرون تثويب الصلوة كلها ) اور درود شریف مطلقاً جائز ومندوب وشرعاً بے قید وقت مطلوب ہے۔ قال تعالى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( ) تو جس وقت درود بھیجا جائے حکم الہی کی تعمیل ہوگی اور کسی وقت خاص میں بے دلیل ممانعت شرعاً خود ممنوع و حرام ہے۔ امام مذکور دلیل دے کہ یہ حکم الہی کس دلیل سے مقید ہے؟ اور اس وقت صلاۃ وسلام سے ممانعت کونسی آیت یا کونسی حدیث میں آئی ہے؟ اور وہ دلیل نہیں دے سکتا تو اسے از خود منع کرنے کا کیا حق اور سنیوں سے دلیل کا مطالبہ کیا معنی؟ ہاں شرعاً ہم نے دلیل دی اور بحمدہ تعالیٰ خود آیت کریمہ سے صلاۃ مروجہ کا جواز بتا دیا اور اس کا جزئیہ خاص در مختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث في عشاء ليلة الاثنين سنة احدى وثمانين وسبعمائة ثم (1) شرح الوقايه ، ج ۱، ص ۱۳۵، کتاب الصلوۃ، باب الاذان برکات رضا (۲) سورة الاحزاب: ۵۶ بعد عشر سنين حدث فى الكل الا المغرب ثم فيها مرتين وهو بدعة حسنة() نیز کشف الغمہ امام شعرانی میں صلوۃ مروجہ کا جزئیہ معروفہ موجود ہے فلیر اجع ۔ امام مذکور کی وہابیت اس کے قول سے آشکار ہے اسکی اقتد اسے پر ہیز کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله