اذان ثانی خارج مسجد ہونا سنت نبوی ہے اور مسجد کے اندر اذان جائز نہیں
کیا اذان ثانی خارج مسجد ہونے پر کوئی دلیل ہے؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم علمائے دین مفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلے میں کہ ہمارے موضع شمس پور میں شروع سے اب تک منبر کے قریب اذان ثانی ہوتی تھی اسی دوران ہماری مسجد میں ایک امام آئے اور انہوں نے باہر اذان ثانی کہلانی شروع کر دی اور وہ اب بھی یہی کہتے ہیں کہ سنت رسول یہی ہے کہ اذان ثانی خارج مسجد ہونی چاہئے اس پر زید نے یہ اعتراض کیا کہ میں دہلی اور علیگڑھ گیا اور میں نے وہاں جا کر مولوی لوگوں سے معلوم بھی کیا تو یہی معلوم ہوا کہ ایسی کوئی روایت نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ اذان ثانی باہر ہونی چاہئے لہذا امام اور زید کے بارے میں شریعت کی رو سے فرمائیے کون حق پر ہے اور کون باطل پر؟ جلد از جلد مدلل طریقہ سے جواب ارشاد فرمادیجئے اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین !
الجواب: امام مذکور کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے۔ انہوں نے ایک سنت جمیلہ کا اجرا فر مایا بے شک اذان خارج مسجد ہی مسنون ہے اور مسجد کے اندر کوئی اذان جائز نہیں۔ (1) الفتاوى الهندية، ج ۱، ص ۱۱۲ ، كتاب الصلوة، الفصل الثاني في كلمات الاذان والاقامة، دار الفكر بيروت فقہائے کرام بالاتفاق فرماتے ہیں: لا يؤذن في المسجد ويكره ان يؤزن في المسجد عالمگیری میں فتاویٰ قاضی خاں سے ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة وخارج المسجد علامہ کمال الدین ابن حمام فتح القدیر باب جمعہ میں فرماتے ہیں: هو ذكر الله في المسجد أى فى حدوده لكراهة الاذان في داخله حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنن ابی داؤد شریف میں حدیث مروی: انه كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر وعمر یعنی حضور سرور عالم صلی اسلام اور ابو بکر و عمر کے زمانے میں اذان جمعہ کے دن دروازہ مسجد پر منبر کے سامنے ہوتی اور کہیں منقول نہیں کہ حضور سرور عالم سلی بنیا ہم نے بھی اذان مسجد کے اندر کہلوائی ہو۔ اگر یہ امر جائز ہوتا تو بیان جواز کیلئے کبھی حکم فرماتے ۔ مزید تفصیل کے لئے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کا رسالہ ایذان الاجر فی اذان القبر“ کا مطالعہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله