صلاۃ وسلام کی شرعی حیثیت اور اقامت کے وقت قیام کا وقت
طرف کے حضرات اس مسئلہ میں بہت زیادہ الجھے ہوئے ہیں۔ اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ قد قامت الصلاۃ سے قبل کھڑا ہونا گناہ ہے کیا؟ اسکی کچھ اصلیت قرآن وحدیث سے ثابت ہے نیز امام کا بالقصد تکبیر کے درمیان بیٹھنا درست ہے یا نہیں۔ مندرجہ بالا مسائل کے بارے میں مدلل و مکمل فتاوی صادر فرمانے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔
الجواب: لمستفق : نیوسمراٹ شیر محله یکریاندا ناؤ صلاۃ مروجہ جائز و مستحسن ہے کہ سوسال سے بلانگیر امصارود یار میں رائج و معمول مسلمین ہے۔ در مختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة سبع مائة واحدى وثمانين في عشاء ليلة الاثنين (1) اور نماز کے بعد سلام پڑھنا بھی شرعاً ممنوع نہیں اور جب شرعا ممنوع نہیں تو بے شک مباح بلکہ مستحب ہے کہ قرآن کریم نے بے قید وقت سرکا را بد قرار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ قال تعالى : إِنَّ اللهَ وَمَلَيكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (۲) تو جب بھی درود وسلام پڑھا جائے حکم الہی کی تعمیل ہوگی تو بے دلیل جو منع کرتا ہے اسکا دعوی غلط و ممنوع ہے۔ واللہ تعالی اعلم تکبیر بیٹھ کر سنا چاہئے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا چاہئے پہلے سے کھڑے ہو جانامکروہ ہے۔ حدیث میں ہے: لاتقومواحتی ترونی قد خرجت (۳) جب تک مجھے باہر آ تانہ دیکھومت کھڑے ہو۔ ہندیہ میں ہے : يقوم الامام والقوم اذا قال المؤذن حى على الفلاح عند علمائنا الثلثة هو الصحيح) والله تعالى علم در مختار وردالمحتار میں ہے: دخل المسجد والمؤذن يقيم قعد الى قيام الامام في مصلاه يكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حی علی الفلاح (۲) فقیر محمد اختر رضا از هری قادری غفرلہ