اذان کے بعد صلاۃ پڑھنے والے کو شیطان کہنا اور جاہل کا غلط حوالے دے کر حدیث بیان کرنا
کسی مسلمان کو شیطان کہنا کیسا؟ غیر عالم کا مسائل شرعیہ بیان کرنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین درج ذیل مسائل میں کہ: (1) ایک شخص کے، اذان کے بعد صلاۃ پڑھنے پر زید نے یہ الفاظ کہے کہ کون شیطان پڑھ رہا ہے اور لاحول ولا قوۃ بھی پڑھا۔ ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ (۲) ایک شخص غیر عالم جو نہ علماء سے استفادہ کرتا ہے نہ ہی ان کی صحبت میں بیٹھتا ہے، اس کے با وجود حدیث بیان کرتا ہے اور غلط حوالے بیان کرتا ہے۔ بات بات میں بخاری کا حوالہ دیتا ہے۔اس کا حکم کیا ہے؟
الجواب: (1) و شخص سخت گناہگار مستوجب نارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے تو بہ کرے اور جسے یہ لفظ کہا، اس سے معافی چاہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) وہ جاہل مسخرہ شیطان ہے لوگوں پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دیں اور جو نا واقف ہیں، انہیں اس سے واقف حال مسلمان دور رہنے کی تلقین کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله الدر المختار، ج ۲، ص ۵۷ کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلميه بيروت