بچہ کو دس سال کی عمر میں نماز کے لیے مارنے اور چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے شرع و مفتیان اس مسئلہ کے بارے میں کہ: (1) لڑکا دس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو نماز پڑھے گا لیکن اگر نماز نہ پڑھے تو کس عمر سے بچہ کو مارے کہ وہ متبع سنت اور نمازی رہے؟ (۲) اگر کسی بالغ شادی شدہ شخص نے تیس سال کے بعد نماز پڑھنا شروع کی اور اس شخص کی ہیں سال کی نمازیں ترک ہو ئیں تو اس شخص کے لیے کیا صورت ہے کہ وہ ہیں سال کی نماز سے بری الذمہ ہو جائے ۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ مستفتی : نا چیز خادم غلام معین الدین اشرف نعیمی آل انڈیا رضائے غوثیہ، نواب عبداللطیف اسٹریٹ کلکتہ
الجواب: (1) دس سال کی عمر میں بچہ کو نماز پڑھانے کیلئے مارنے کا حکم ہے کہ بعد بلوغ نماز کا عادی ہو جائے صحیح تعلیم و تربیت بچہ کی کی جائے تو ایسا ممکن ہی نہیں بلکہ واقع ہے کہ بچہ پکا نمازی صحیح طور سے نماز پڑھنے لگتا ہے اور متبع سنت ہو جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بعد بلوغ جتنی نمازیں قضا ہوئی ہوں انہیں جلد ادا کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله