سجدہ میں انگلیوں کی پوزیشن، مکروہ اوقات میں نماز، عصر ومغرب کے درمیان کھانا پینا اور دیگر مسائل
پڑھ سکتے ؟ پھر تحیت الوضو کا پڑھنا بھی جائز نہیں خواہ وہ فجر کی نماز کا وقت ہو یا عصر کا ؟ (۳) کیا عصر سے مغرب تک کھانا پینا منع ہے یا عصر و مغرب کے درمیان کھانا پینا منع ہے؟ یہ جو کہتے ہیں کہ روح نکلتے وقت عصر و مغرب کے درمیان کا وقت نظر آتا ہے کیا یہ صحیح ہے؟ کیا اسی درمیان میں کھانا پینا منع ہے؟ (۴) جمعہ کی نیت اس طرح کرنا صحیح ہے؟ نیت کرتا ہوں واسطے نماز کے نماز پڑھتا ہوں واسطے اللہ کے ۲ رکعت نماز فرض وقت جمعہ ساقط ہونے ظہر کے منہ میرا کعبہ شریف کو اللہ اکبر۔ (۵) کیا سنتوں کی نیت میں رسول اکرم کی سنت کہنا جائز ہے جیسے چار رکعت نما ز سنت ،سنت رسول اللہ کی اور اگر نام نہ لیں تو نماز میں تو کوئی فرق نہیں آتا؟ (۶) کیا جس طرح فرضوں کی قضا پڑھی جاتی ہے اسی طرح سنتوں کی قضا بھی پڑھی جاسکتی ہے؟ کیا سنت مؤکدہ کی بھی قضا ہے؟ (۷) فجر کی سنتیں رہ جائیں تو کیا وہ سورج نکلنے کے بعد پڑھی جائیں گی ؟ زید کا کہنا ہے کہ اگر فجر کی نماز کے بعد سنتیں پڑھی جائیں یا سورج کے نکلنے کے بعد پڑھے نفل ہوگی ۔ المستفتی : و قانعیمی تحصیل نجیب آباد بجنور
الجواب: (1) مسئله در مختار وردالمحتار وفتح القدیر و بہار شریعت اور فتاویٰ رضویہ میں مصرح ہے۔ سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ کا زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ کا زمین پر لگنا واجب ہے (۱)۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہاں ان دونوں وقتوں میں نفل منع ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عصر و مغرب کے درمیان کھانا پینا منع نہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ قبر میں مسلمان مردہ جب سوال کیلئے اٹھتا ہے اس وقت اسے عصر کا آخری وقت معلوم ہوتا ہے (۱) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نیت صحیح ہے ساقط ہونے ظہر کے“ کہنے کی حاجت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جائز ہے اور نماز میں فرق تو زبان سے نیت نہ بولنے پر بھی نہ آئے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) سوائے سنت فجر ( کہ قریب واجب ہے اور حدیث میں اس کی بہت تاکید ہے ) کسی سنت کی قضا کا حکم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) سورج نکلنے کے ہیں منٹ بعد سے قبل زوال تک امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک مستحب ہے اور فجر کی نماز کے بعد کسی نقل کی اجازت نہیں وہ سنت بھی نقل ہے اور ہر سنت نفل ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله