نماز جمعہ کے فرض کے بعد اور سنتوں سے پہلے صلاۃ و سلام پڑھنے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز جمعہ کے فرض کے بعد صلاۃ وسلام پڑھنا اور اس کے بعد سنتیں پڑھنا مناسب ہے یا نہیں؟ المستلفنی شفیق احمد سول لائن بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: نا مناسب ہے۔ سنن مؤکدہ کے بعد پڑھنا چاہئے کہ سنن مؤکدہ میں ادائے فرض کی عجلت شرعاً مطلوب ہے والہذا ہمارے علمائے کرام کثر ہم اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی کہ فرض کے بعد دعا بھی مختصر مانگے بلکہ درمختار میں ہے: " ويكره تاخير السنة الابقدر اللهم أنت السلام الخ ) یعنی سنت میں دیر کرنا مکروہ ہے مگر اتنی دیر کہ اللهم أنت السلام و منك السلام تبارکت يا ذالجلال والاکرام پڑھے (۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۱۸۴–۱۸۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ساڑی پہن کر نماز پڑھنے کا حکم اور عورتوں کے سجدہ کا طریقہ
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کے سلام پھیرنے کے بعد اقتدا کا حکم اور مسبوق کے لیے تشہد پڑھنے کا طریقہ
باب: کتاب الصلوٰۃ
سجدہ میں انگلیوں کی پوزیشن، مکروہ اوقات میں نماز، عصر ومغرب کے درمیان کھانا پینا اور دیگر مسائل
باب: کتاب الصلوٰۃ
جسے سورۃ فاتحہ اور قل کے علاوہ کوئی سورہ یاد نہ ہو، اس کی نمازوں کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
صاحب ترتیب کی تعریف، امام کا انتظار اور داڑھی منڈے کی امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ