نماز کی فرضیت کا منکر کافر بے دین ہے
شب/ ۱۰ ربیع الآخر ۱۴۰۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص قبرستان میں رہتا ہے اور کہتا ہے نماز کوئی ضروری نہیں ہے۔ نماز پڑھو یا مت پڑھو۔ جو میں کہوں وہ کرو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ المستفتی فداحسین ، سردار گر تحصیل آنوا مطلع بر یلی
الجواب: نماز کی فرضیت ضروریات دین سے ہے جس کا منکر کافر و مرتد بے دین ہے۔ در مختار میں ہے: ويكفر جاحدها لثبوتها بدلیل قطعی (۱) اور نماز کا منکر دلیل قطعی سے ثابت ہونے کی وجہ سے کافر ہے اور اسی طرح عالمگیری میں ہے: الصلاة فريضة محكمة لايسع تركها ويكفر جاحدها كذافي الخلاصة (۲) نماز فرض محکم ہے اس کے ترک کی کوئی گنجائش نہیں اور اس کا منکر کا فر ہے ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ لہذا جس نے یہ کہا کہ معاذ اللہ نماز ضروری نہیں ہے اس نے سخت کفر کہا اس پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے ورنہ ہر مسلمان پر اسے چھوڑ دینا فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ (۱) الدر المختار، ج ۲، ص ۵ كتاب الصلوة، دار الكتب العلمية بيروت (۲) الفتاوى الهندية ج ا ص ١٠٧ ، كتاب الصلوة، دار الفكر بيروت