تارکِ نماز اور عورتوں کا لباس پہننے والے نامرد کے پکے ہوئے کھانے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک شخص قوم کا نائی ہے اور کھانا پکاتا ہے اور نماز نہیں پڑھتا نقص یہ ہے کہ وہ نامرد ہے عورتوں کا لباس پہنتا ہے اور لوگ اس سے کہتے ہیں کہ نماز پڑھ اور اپنے لباس کو بدل دے وہ کہتا ہے میں کس طرح نماز پڑھوں میں نامرد ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ نماز نا مرد پر بھی فرض ہے۔ وہ کہتا ہے میں نہیں پڑھتا کیوں پڑھوں کسی کا مجھ پر کوئی زور نہیں اور نہ میں لباس بدلوں کیا اس شخص کے ہاتھوں کا پکا ہوا کھانا کھانے میں کوئی حرج ہے؟ جوحکم شرع ہو گا وہی عمل میں لایا جائے گا۔
تارک صلوة سخت گنهگار مستحق غضب الهی و مستوجب نار ہے از نانے کپڑے پہننا حرام حرام بد کام بد انجام ہے! شخص مذکور سخت گناہ گار مستحق غضب الہی و مستوجب نار ہے نماز نہ پڑھنا پھر اس پراڑ نا اور زنانے کپڑے پہنا حرام حرام حرام بد کام بد انجام ہے اس پر تو بہ فرض ہے تو یہ نہیں کرتا تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دیں ۔ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ )) یعنی یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے: ”و ان الظلمین یعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع کلھم ممتنع‘(۲) اور بیشک ظالمین بدعتی و فاسق و کا فرسب کو عام ہے اور ان سب کے ساتھ بیٹھنا منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم