الصاق کعبین کا حکم، حالت سجدہ میں انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگانا اور شریعت کی لغوی تحقیق
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسئلوں میں کہ: (1) زید رکوع میں ٹخنے سے ٹخنہ ملاتا ہے اور سنت مستحب بتلاتا ہے اور حوالہ درمختار اور فتاویٰ رضویہ سوم کا بتلاتا ہے۔ عمرہ کہتا ہے یہ بہت پرانی سنت ہوگی اس کا ثبوت الملفوظ اعلیحضرت، جس کو سر کار مفتی اعظم ہند نے لکھا اس میں اس کا ثبوت نہیں اور بہار شریعت اور دوسری معتبر کتابوں میں بھی نہیں ۔ اور یہ سنت حضور مفتی اعظم ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور بڑے بڑے یوپی کے علماء اور کرناٹک کے علماء کو کرتے نہیں دیکھا اور عوام میں بھی نہیں دیکھا دیگر اس زمانے میں یہ ٹھنے کی سنت کو ادا کرنا دین میں فتنہ ہونے کا اندیشہ ہے چھوڑ دینا بہتر ہے۔ علمائے اہلسنت ہمیں صاف طور سے بتلائیں ہم کو یہ سنت ادا کرنا چاہئے یا نہیں؟ اور اوپر کا قول زید کا صحیح یا عمر کا ؟ (۲) مسجد کے امام کے سجدہ کی حالت میں ہر پیر کی تین انگلیاں زمین سے نہیں لگتیں کیا مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی ؟ (۳) شریعت کے لغوی معنی کیا ہیں؟ اور نماز ، روزہ ، زکوۃ حج یہ شریعت کے احکام ہیں یا نہیں؟ المستفتی الہی انجینئر نگ ورکس بلاری روڈ ہاسپیٹ ،ضلع بلاری
الجواب: (1) فی الواقع رکوع میں ٹخنے سے ٹخنہ ملانا جائز ہے مگر اس کا سنت ہونا ثابت نہیں اور اس امر کی خود سید نا اعلیحضرت فاضل بریلوی نے تصریح فرمائی تفصیل کیلئے ہمارا مفصل فتوی ملاحظہ ہو یا فتاویٰ رضویہ جلد سوئم میں دوسر افتویٰ دیکھیں۔ اور عوام میں اس مسئلہ کی اشاعت ضرور پریشانی عوام کا باعث ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نماز ہو جائے گی مگر اکثر انگلیوں کا پیٹ لگانا واجب ہے جس کا ترک بلا عذر مکروہ تحریمی ہے۔ وفيه يفترض وضع أصابع القدم ولو واحدة نحو القبلة والالم تجز، والناس عنه غافلون () ترجمہ: اور اسی میں یہ کہ قدم کی انگلیاں کھڑی بجانب قبلہ رکھے اگر چہ ایک ہی سہی اور نہ نماز جائز نہیں اور اکثر لوگ اس سے غافل ہیں۔ اور نماز واجب الاعادہ ہوگی اور عذر ہو تو کراہت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) شریعت کے لغوی معنی ہیں اونٹوں کو بہتے پانی پر پھیرنا اور بہتے پانی کیلئے بھی مستعمل ہوا ہے اور دین پر بھی بولا جاتا ہے اور اسی کے معنی میں غالب ہے۔ مجمع البجار میں ہے: الشرع والشريعة ما شرع الله من الدين أى سنه و افترضه شرع الدين فهو شارع اذا أظهره و بينه والشارع الطريق الاعظم والشريعة مورد الابل على الماء الجاري و فيه فاشرع ناقته ای ادخلها فی شریعة الماء (۲) اور امور مذکورہ بلاشبہ احکام شرعی ہیں جنکی فرضیت ضروریات دین سے ہے اور ان میں سے کسی کا منکر کافر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ