نماز میں مطلق قرآت فرض ہے، سورہ فاتحہ کی فرضیت کا قول قرآن عظیم کے خلاف ہے! جو احادیث اس اس خصوص میں غیر مقلدین پیش کرتے ہیں وہ نفی کمال پر محمول ہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید کہتا ہے کہ الحمد شریف کا نماز میں پڑھنا ضروری ہے اور وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ امام کے پیچھے بھی مقتدی کو الحمد کا پڑھنا ضروری ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ بغیر الحمد کے نماز نہیں ہوگی۔ اگر قرآن وحدیث سے ثابت کریں تو ہم مانیں گے ورنہ نہیں۔ المستفتی: محمدعبدالرحمن محلہ قانون گوئیاں، بریلی شریف
الجواب: قرآن عظیم سے مطلق قرآت کی فرضیت ثابت ہے بعینہ قرآت سورہ فاتحہ کی فرضیت قرآن عظیم میں کہیں نہیں۔ قال تعالى : فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ () اور کسی حدیث قطعی الثبوت قطعی الدلالہ سے بعینہ سورہ فاتحہ کی فرضیت ثابت نہیں اور جو احادیث اس خصوص میں غیر مقلدین باتباع شافعیہ پیش کرتے ہیں نفی کمال پر محمول ہیں نہ کہ نفی نماز اُن سے ثابت ہو ۔ اور اسی نفی کمال کی تصریح حدیث مسلم میں ہے ( جس میں بے قرآت سورہ فاتحہ صلاۃ کو خداج فرمایا ) وارد ہوئی کہ خداج نا تمام و ناقص کو کہتے ہیں نہ کہ اس کو جو سرے سے معدوم ہو اور مقتدی پر سورہ فاتحہ پڑھنا فرض بتانا قرآن کے حکم کے خلاف ہے اور بعینہ سورہ فاتحہ کی فرضیت کا قول بھی قرآن کے خلاف ہے۔ غیر مقلدوں کو لازم ہے کہ پہلے اس کا جواب سوچ رکھیں پر دوسروں سے قرآن وحدیث سے ثبوت مانگیں پھر یہ کہا گیا کہ قرآن وحدیث سے ثابت کریں تو مانیں گے ورنہ نہیں۔ اس کا ظاہر وصاف مطلب اس قائل کی غیر مقلدیت ہے۔ وہی قرآن وحدیث سے بتائے کہ تقلب دائمہ جیسا کہ وہ گمان کرتا ہے کہ ناجائز و حرام ہے اور ہر عامی و جاہل کو کسی عالم سے ہرگز کوئی سروکار نہیں۔ بلکہ سب کو برابر قرآن وحدیث سے کام ہے اور یکساں ان کی فہم عام ہے۔ ھاتو ابرھانکم ان کنتم صادقین ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۰ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ