چین کی گھڑی پہن کر نماز پڑھنے اور التحیات یا فاتحہ کے حروف رہ جانے کا حکم
چین کی گھڑی پہن کر پڑھی گئی نمازوں کا حکم ! سورہ فاتحہ یا التحیات یا دعائے قنوت میں سے کوئی حرف چھوڑ دینے کا حکم علمائے کرام کیا فرماتے ہیں : (۱) زید کہتا ہے کہ گھڑی میں حفاظت کے لئے زنجیر لگا کر کلائی پر باندھنا اور اس سے نماز پڑھنا جائز ہے۔ یہ زید کا کہنا صحیح ہے یا غلط؟ (۲) نماز میں سورہ فاتحہ اور التحیات اور وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے لیکن معلوم یہ کرنا ہے کہ سورہ فاتحہ میں سے یا التحیات میں سے یا دعائے قنوت میں سے مجبوراً کوئی حرف چھوڑ دے تو نماز صحیح ہو جائیگی یا نہیں؟ مثلا زید جب نماز پڑھتا ہے تو التحیات پڑھنے کے وقت اس کی زبان سے التحیات ادا نہیں ہوتا ، وہ پوری کوشش کرتا ہے مگر ادا نہیں ہوتا تو وہ مجبورا التحیات کو چھوڑ کر اللہ سے آگے پڑھتا ہے اور سلام پھیر دیتا ہے اور کبھی سورہ فاتحہ التحیات کی جگہ پڑھ کر سلام پھیر دیتا ہے تو صورت مذکورہ میں زید کی نماز صحیح ہو جاتی ہے یا نہیں؟
الجواب: (1) چین پہننا منع ہے اور نماز اسے پہن کر مکروہ تحریمی واجب الاعادہ۔ درمختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحریم تجب اعادتها “۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) “ الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت (۲) ایسا نہ کرے، اس طرح نماز پھر سے پڑھنا واجب صحیح صحیح پڑھنے کی کوشش کرتار ہے اور جو نکلتا ہے بہ مجبور، وہی بولے۔ واللہ تعالیٰ اعلم