سنتوں کی نیت کا طریقہ، لقمہ، غیر مسلم کو سلام اور عیدین کی نماز کا اعادہ
یکساں ہوں گی ، خصوصیت کے ساتھ سنت خواہ مؤکدہ ہوں یا غیر مؤکدہ ، نیت یوں کرتا ہے: ” نیت کرتا ہوں دو رکعت نماز تراویح سنت مؤکدہ واسطے اللہ کے پیچھے اس امام کے ، منہ میرا طرف کعبہ شریف کے، اللہ اکبر۔ اس بات پر بکر کہتا ہے کہ عبادتیں تو واقعی اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں اور سب کی نیت میں اللہ ہی کا نام ہوگا لیکن سنتوں میں فرق ہے اس میں رسول کا بھی نام لیا جائے گا اور یوں کہتا ہے کہ نماز سنت رسول اللہ کے لئے پڑھی جاتی ہے اور اس کی نیت اس طرح کرتا ہے: ” نیت کرتا ہوں میں دورکعت نماز تراویح کی سنت رسول اللہ کی، پیچھے اس امام کے، منہ میرا کعبہ شریف کی طرف ، اللہ اکبر۔ ان دونوں کی نیتوں میں کس کی نیت ٹھیک ہے؟ اور کس کی نیت غلط ہے؟ نیز قرآن و حدیث اور اقوال علماء اور ترکیب صلحاء کی روشنی میں دلیل سے واضح کیا جائے کہ سنتوں کی نیتیں کس طرح کی جائیں گی؟ اور سنت واقعی رسول کے لئے پڑھی جاتی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس طرح اور کیوں؟ مفصل دلائل و براہین کے ساتھ تحریر کیا جائے۔ (۲) اگر کسی شخص نے امام کو لقمہ دیا حالانکہ امام صحیح طریقہ سے نماز پڑھا رہا ہے، لقمہ دینے والے نے غلط لقمہ دیا ہے تو لقمہ دینے والا نماز گزشتہ کہ جس میں لقمہ دیا ہے، دہرائے گا یا نہیں ؟ مفصل فقہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ (۳) غیر مسلموں کو سلام کس طرح کیا جائے اور ان کو جواب ان کے سلام کا کس طرح دیا جائے؟ (۴) عیدین کی نماز بالکل کچھ آدمیوں کی چھوٹ جانے پر امام اول دوبارہ ان کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ ان مسائل کو مدلل و مفصل تحریر کیا جائے ؟ بینوا توجروا المستفتی علی احمد، چھیونی دیور یا معلم مدرسه
الجواب: (1) فرض کی نیت میں فرض کی تعیین ضروری ہے مثلاً ظہر کی نماز عصر کی نماز ۔ اور نوافل وسنن مطلق نماز کی نیت سے بھی ہو جائیں گے اور نیت دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے الفاظ بولنا کچھ ضرور نہیں، ہاں عزیمت کے لئے علماء نے اسے مستحب فرمایا ہے اور سنت واقعی رسول اللہ کی ہوتی ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہیں پڑھی جاتی ہے بلکہ خدا کے لئے پڑھی جاتی ہے کہ عبادت اسی کی ہے ۔ جس نے کہا کہ رسول اللہ کے لئے پڑھی جاتی ہے ، غلط کہا، اس سے تو بہ کریں، نیتوں کے دونوں جملے صحیح ہیں اور ضروری ان میں سے کوئی نہیں۔ سنت رسول اللہ کی نہ کہنے پر اصرار خطا ہے اور کہنا ضروری جاننا بھی غلط ہے ، ہاں بہتر ہے۔ (۲) بلا ضرورت لقمہ دینا مفسد نماز ہے، لہذا جس نے غلط القمہ دیا اس کی نماز جاتی رہی، اس پر اعادہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) غیر مسلموں کو سلام کرنا حرام ہے اور اگر ضرورت شرعیہ مثلاً فتنہ کا اندیشہ ہو یا مسلم کا حق اس پر آتا ہو اور وہ بلا تعلق ظاہری نہ مل سکے تو سلام کی اجازت ہے، خالی سلام (علیک نہ ) کہے اور جواب میں بھی وہی تفصیل ہے، اور وعلیک کہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) امام اول دوبارہ عید کی امامت نہیں کر سکتا کہ اس کی نماز نفل محض ہوگی اور مقتدیوں کی واجب اور یہ نا جائز ہے کہ واجب پڑھنے والا متنفل کی اقتداء کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ / رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی