نسبندی کرانے والے شخص کے بارے میں حکم شرع کیا ہے؟!
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل اسلام مسئلہ مندرجہ کے متعلق کہ: زید نے اپنی نسبندی بالجبر نہیں بلکہ بالرضا کرائی ہے اور اب نماز مسجد میں آکر پڑھتا ہے با جماعت ۔ امر طلب یہ ہے کہ بروئے شریعت اس کی نماز بنفسہ ہوگی یا نہیں؟ نیز مسجد میں جماعت سے پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب عنایت کیا جائے۔ معین کرم ہوگا ۔ بینوا توجروا۔
الجواب: المستفتی خلیل احمد ، ساکن محلہ جسولی ضلع بریلی شریف نسبندی حرام حرام حرام، بدکام، بدانجام تو نہ صرف ایک حرام بلکہ حرام کا مجموعہ مرکب ہے جو ہرگز ہرگز جائز نہیں ، جو اس فعل بد سے راضی ہو، وہ بڑا مرتکب گناہ ہے اور جو یہ فعل بدا پنا ستر کھول کر وہ بھی غیر مسلموں کے سامنے کرائے ،سخت فاسق و نہایت فاجر، بدکار ہے۔ اور اگر اس حرام قطعی کو جائز و حلال جانے تو دائرہ اسلام سے خارج ہے، زید پر لازم ہے کہ تو بہ کرے اور نماز اس کی صحیح ہے، اور باجماعت نماز پڑھے،اس سے اسے روکنا گناہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ رشعبان المعظم ۱۳۹۶ھ الجواب صحیح والحجیب مصیب و مشاب۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی