آستین کے کف پلٹنا، چین کی گھڑی پہننا، اور دیوبندیوں سے تعلقات کا شرعی حکم
علمائے دین و شرع متین و مفتیان دین وملت ان مسائل کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ : (1) سورۃ فتح میں ”محمد رسول اللہ “ سے لے کر من اثر السجود‘ تک پڑھ کر رکوع اور سجدہ کیا گیا۔ ایسی حالت میں نماز ہوئی یا نہیں ؟ آگاہ فرمائیے۔ (۲) اس مسئلہ کے بارے میں مفتیان شرع متین کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ چین دار گھڑی باندھ کر آستین کی کفیں پلٹ کر اور گلے کا بٹن کھلے رہنے پر ۔ ایسی حالت میں نماز پڑھنے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ (۳) مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ علمائے دیوبند کے ماننے والوں سے سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا یا اُن کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا یا ان سے مصافحہ کرنا ، ان کے گھروں میں اپنی لڑکی یا لڑکے کی شادی کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟ آگاہ فرمائیے؟ (۴) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے اور بزرگان دین کو مٹی کا ڈھیر بتانے والے، اُن کی شان میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے؟ آگاہ فرما ئیں ۔ المستفتی: محمد عمر رضوی جامع مسجد، منکا پور بازار، ضلع گونڈہ (یوپی)
الجواب: (۱) نماز ہوگئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) آستین کے کف پلٹنا اور چین کی گھڑی پہننا مکروہ تحریمی ہے اور کرتے کے بٹن کھلے ہوں کہ سینہ کھل جائے ، یہ مکروہ ہے اور ان صورتوں میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی اور گلا بھی کھلنا بہتر نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴،۳) دیو بندی کا فربے دین ہیں کہ گستاخ حضرت رب العزة ورسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم ہیں، ان سے سلام کلام ونشست و برخاست، شادی بیاہ سب حرام بد کام بدانجام ہے۔ قال تعالى : فَلا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ) اور ان کے پیچھے نماز باطل محض اور دانستہ انہیں امام بنانا حرام کفر انجام ۔ اما الكافر فلا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲) کفایہ میں ہے: در مختار میں ہے: ’لوقال لمجوسى يا استاذ تبجيلايكفر لأن تبجيل الكافر كفر (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم بہاء المصطفیٰ قادری ۱۹ رذی قعدہ ۱۴۰۲ھ