اسٹیل کی چین، پینٹ کی موری لوٹنے، شملہ، اقامت، کنویں کی پاکی اور ہجڑے کی نماز کے مسائل
بخدمت جناب حضرت اختر رضا خان صاحب دامت برکاته مراسم عقیدت کے بعد التماس ہے کہ کچھ مسائل بتادیں۔ چین دار گھڑی باندھ کرنماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور پینٹ پہن کر نیچے سے موری لوٹی ہو نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر امام پینٹ پہن کر نماز پڑھا رہے تھے اور عمامہ باندھے ہے اور شملہ جو پیچھے پیٹھ پر لٹکا ہوتا ہے وہ شملہ او پر عمامہ میں لوٹ لیتا ہے، کیا جائز ہے یا نہیں؟ اور مخطبہ جمعہ کا ختم بھی نہیں ہونے پاتا ہے، امام ممبر پر سے اتر نے بھی نہیں پاتا کہ لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں، آپ بتائیے یہ کیسا ہے اور کیا مؤذن نے اذان کہی اور تکبیر دوسرا کہہ سکتا ہے، یا نہیں؟ اور کنواں ناپاک ہو گیا ہے، قانون شریعت میں لکھا ہے کہ پانی بالکل نکال دو لیکن بارش کا موسم ہے پانی سوکھ نہیں سکتا، کیا کرنا چاہئے؟ اور نماز پڑھ رہے ہیں ، ہجڑا آ کر صف میں کھڑا ہو گیا ہے، ہماری نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ آپ کرم فرما کر جواب عطا فرمائیں۔ المستفتی: عبدالحمید بٹن والے محمد رضی خاں عزیز گنج، آزاد مارکیٹ، مکان نمبر 1567 ، دہلی-110000
اسٹیل ، تانبہ، پیتل کی مروج چین مرد و عورت دونوں کو مکروہ تحریمی ہے ! چین پہن کر نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور جو اس کا عادی ہو اگر چہا اتار کر پڑھے اس کی نماز واجب الاعادہ ! موری لوٹنا یا عمامہ پر شملہ لوٹنا نا جائز و مکروہ ہے! اقامت مؤذن کو کہنا اولی ہے! کنواں کیسے پاک کریں؟ ہجڑا آ کر صف میں کھڑا ہو جائے نماز ہو جائے گی! الجواب: چین کہ آج کل اسٹیل، تانبہ، پیتل کی مروج ہے، مردوعورت دونوں کو مکروہ تحریمی ہے، اور اسے باندھ کرنماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے بلکہ اس کو جو پہنے کا عادی ہے، اس کی نماز مطلق واجب الاعادہ ہے، اگر چہ اُتار کر پڑھے۔ ہند یہ وجوہرہ میں ہے: وفي الـخـجـنـدى الـتـخـتـم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء (1) اور نماز واجب الاعادہ ۔ ہندیہ میں ہے: يكره للمصلى ان يعبث بثوبه او لحيته او جسده و ان يكف ثوبه بان يرفع ثوبه من بین یدیه او من خلفه (۲) اسی میں ہے: لوصلی رافعا کمیه الی المرفقین کره کذافی فتاوی قاضی خان (۳) یہ بھی ناجائز ومکروہ ہے کہ یہ کف ثوب کی صورت ہے جس کا حکم ابھی جواب نمبر (۲) میں گزرا۔ و جو اعلم ۔ یہ سخت مکروہ ہے۔ وھو تعالی اعلم اقامت مؤذن کو کہنا اولی ہے۔ حدیث میں ہے: من أذن فهو يقيم (۴) دوسرے کو بھی کہنا جائز ہے مگر مؤذن کی اجازت لینا چاہئے اور اگر قوی اندیشہ ہے کہ مؤذن سے اجازت نہ لی تو اسے ملال ہوگا تو اجازت لینا مؤکد ہے۔ ہندیہ میں ہے: ان أذن رجل واقام أخر إن غاب الاول جاز من غير كراهة وان كان حاضرا ويلحقه الوحشةباقامةغیره یکره وان رضی به لایکره عندنا کذا فی المحیط) ایسی صورت میں دو آدمیوں (جن کو پانی کا خوب اندازہ ہو ) کے تحول پر عمل کریں، وہ جتنی مقدار کنویں کی بتائیں اتنی مقدار پانی نکال دیں۔ ہندیہ میں ہے: الاصح ان يؤخذ بقول رجلين لهما بصارة فى امر الماء فأى مقدار قالا انه في البئرينزح ذلك القدر وهو اشبه بالفقه كذا في الكافي وشرح المبسوط للامام السرخسى والتبيين (٢) نماز ہو جائے گی ۔ و ہو تعالی اعلم ۔ اس وجہ سے نماز میں خلل نہ ہوگا اس لئے کہ ہجڑا حقیقہ مخنث نہیں، محنث حقیقی وہ ہے جس میں مردوزن دونوں کی علامتیں پائی جائیں اور اس کی ایک قسم خدشی مشکل۔ یعنی جس کا حال نہ کھلتا ہو کہ مرد ہے یا عورت اور خنثی مشکل کے محاذات مفسد صلاۃ نہیں۔ ہندیہ میں ہے: محاذاة الخنثى المشكل لا تفسد صلاته کذا فی التتارخانية (۳) ہے تو ہجڑا کہ حقیقہ مرد ہے، اس کے صف میں کھڑے ہونے سے کیا خلل متصور ہے؟ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۶ / جمادی الآخره، ۱۴۰۴ھ