حضور غوث پاک سے بنی ہی متعلق ایک واقعہ کے بارے میں سوال!
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ : زید کہتا ہے کہ ایک بار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذکر کر رہے تھے اور ان کے مریدین بھی شامل تھے غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالکل مستغرق ہو گئے اور زبان پاک سے کہنے لگے میں اللہ میں اللہ ۔ ذکر کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ حضرت آپ میں اللہ کہہ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ اگراب میں آئندہ ایسا کروں تو آپ لوگ مجھے قتل کر دیں دوبارہ ذکر ہوا تو پھر آپ نے وہی الفاظ کہا تو لوگوں نے تلوار اٹھا کر مارنا شروع کیا تو الٹا ان لوگوں کے سر میں وارلگ رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوش میں آئے دیکھتے ہیں کہ سب جگہ خون ہی خون ہے کسی کا ہاتھ کٹا ہے توکسی کا پیر کٹا ہے تو کسی کا بدن لہولوہان ہے تو غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی تو سب صحیح و سالم ہو گئے۔ کیا یہ واقعہ درست ہے گر درست تو کس طرح اور کس کتاب میں ہے؟ جواب مرحمت فرمائیں۔ امستفتی : چاند علی رضوی، سنی نوازی مسجد سریان نگر بکر ولی
الجواب: یہ واقعہ میری نظر سے نہ گزرا، اور اس کی نسبت سرکار غوث پاک کی طرف صواب سے دور معلوم ہوتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله