خلافِ ترتیب تلاوت، شرعی فیصلہ نہ ماننا، دشمنِ رسول کا قتل اور شہادتِ حسین سے متعلق جوابات
(۱) کیف فعل ربک تک پڑھ کر اذا جاء“ پڑھ لے تو سجدہ سہو کرے یا نہیں؟ اور اس طرح پڑھی ہوئی نماز صحیح ہوگی یا قابل اعادہ؟ (۲) جو مسلمان حکم قرآن و حدیث پاک کے مطابق فیصلہ اور فتویٰ کو نہ مانے اس کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ (۳) کیا رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کے دست مبارک سے کبھی کوئی دشمن اسلام قتل ہوا؟ (۴) کیا سیدنا جبرئیل علیہ السلام سید الشہداء سید ناحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا محضر نامہ بارگاہ الہی سے خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کی خدمت میں آپ کی مہر یا دستخط کرانے کے لئے حاضر ہوئے تھے؟ جب حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سن مبارک چھ سات سال کا تھا۔ المستفتی محمد مختار قادری نعیمی اکرمی معرفت محمد سرور میاں خاں قادری رضوی خطیب جامع مسجد ، بھوپال گنج، بھیلواڑہ ( راجستھان )
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں امام نے خلاف ترتیب پڑھا اور خلاف ترتیب پڑھنا سہواً ہو تو کچھ الزام نہیں ،عمد أضر ور گناہ ہے اور سجدہ سہولا زم نہیں جبکہ تین بار سبحان اللہ کہنے کے بمقدار نہ ٹھہرا ہو ورنہ سجدہ سہولا زم تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سخت گنہ گار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہاں ۔ امیہ بن خلف ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) میں نے یہ واقعہ نہ دیکھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۲۲ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۲ھ