نماز کی فرضیت ضروریات دینیہ سے ہے اور اس کا منکر کافر ہے
نماز کی فرضیت ضروریات دینیہ سے ہے۔ نماز کی فرضیت کا منکر کا فر ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص قبرستان میں رہتا ہے اور کہتا ہے نماز کوئی ضروری نہیں ہے، نماز پڑھو یا مت پڑھو، جو میں کہوں وہ کرو ۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ المستفتی: فداحسین، سردار گر تحصیل آنور ضلع بریلی
الجواب: نماز کی فرضیت ضروریات دین سے ہے جس کا منکر کا فر و مرتد بیدین ہے۔ در مختار میں ہے: ویکفر جاحدهالثبوتها بدليل قطعي (1) (1) الدر المختار، ج ۲، کتاب الصلوة ص ۵ ، دار الكتب العلمية بيروت اور نماز کا منکر دلیل قطعی سے ثابت ہونے کی وجہ سے کافر ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: الصلاة فريضة محكمة لايسع تركها ويكفر جاحدها كذافي الخلاصة (1) نماز فرض محکم ہے اس کے ترک کی کوئی گنجائش نہیں اور اس کا منکر کا فر ہے ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ لہذا جس نے یہ کہا کہ معاذ اللہ نماز ضروری نہیں ہے اس نے سخت کفری کلمہ کہا، اس پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے ورنہ ہر مسلمان پر اسے چھوڑ دینا فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ (1) الفتاوى الهندية ، ج ا كتاب الصلوة ، ص ۱۰۷ ، دار الفکر بيروت وَرَيْلِ الْقُرْآن تَرْتِيلاء، اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ (1)