تارک نماز کے کفر کا حکم، وہابیوں سے موازنہ اور عورتوں کے لیے ساڑی کا حکم
جو شخص کبھی نماز چھوڑے اور کبھی پڑھے اس کا کیا حکم ہے؟ جو شخص یہ کہے کہ نماز چھوڑنے والے سے وہابی دیو بندی اچھے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ ساڑی کا پہننا مسلمان عورتوں کو کیسا ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید کہ رہا ہے جو شخص ایک وقت کی نماز پڑھے اور چار وقت کی نہ پڑھے یا کبھی پڑھے اور کبھی نہ پڑھے وہ کافر ہے اور زید امامت بھی کرتا ہے اور یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ایسے لوگوں سے وہابی دیو بندی اچھے ہیں ۔ ایسا بکنا کیسا ہے؟ (۲) مسلمان عورتوں کو ساڑی باندھنا کیسا ہے؟ زید کہتا ہے مسلمان عورتوں کو ساڑی باندھنا حرام ہے۔ جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں۔ المستفتی: محمد نبی حسن رضوی ٹھاؤں بنے ہنا پوسٹ سلہری تحصیل سہسوان مضلع بدایوں (یوپی)
الجواب: (1) نماز کا ترک اگر چہ ایک وقت ہی کی نماز چھوڑے اشہد کبیر عظیم گناہ ہے اور فعل مشابہت کفار ضرور ہے اسی لئے قرآن میں فرمایا کہ نماز قائم رکھو اور مشرکین سے نہ ہو جاؤ اور حدیث میں عمداً ترک صلاۃ کے مرتکب کو کا فرفرمایا گیا، بعض علماء وائمہ ظاہر حدیث کی وجہ سے اسی طرف گئے ہیں کہ بے نمازی کافر ہے مگر جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ آدمی اس وقت تک کا فرنہیں ہوتا جب تک ضروریات دین کا انکار نہ کرے اور یہ کہ مرتکب کبیرہ کا فرنہیں ہے۔ زید بے قید نے یہ بہت سخت بے ہودہ کلمہ بولا کہ ایسے لوگوں سے وہابی دیوبندی اچھے ہیں ، حالانکہ وہابی اور دیو بندی بکثرت ضروریات دین کے منکر اور خدا اور رسول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ ہیں۔ علمائے حرمین شریفین نے انہیں کا فرمرتد بے دین کہا ہے۔ اور جو انہیں دانستہ مسلمان جانے بلکہ ان کے کفر میں شک کرے، اس کو کافر فرمایا ہے۔ زید پر تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح فرض ہے ورنہ ہر مسلم اسے چھوڑ دے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۲) ہر جگہ یہ حکم نہیں۔ جہاں خاص مشتر کہ عورتیں ساڑی پہنتی ہیں اس جگہ ضرور نا جائز ہے۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی