ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل کر پڑھنے والے کے پیچھے نماز نا درست ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ: زید نے نماز کی حالت میں قرآن پاک کو اس طرح پڑھا کہ ضالا فندی'' کے بجائے ڈوائے لافھدی پڑھا اور بجائے ”ش“ کے ”س“ یا ”ص“، یا بجائے ” ذال“ کے ” ظا“ وغیرہ پڑھا۔ ایسا پڑھنے والا علم تجوید سے واقف نہیں ہے اور اس کے پیچھے پڑھنے والے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ علم تجوید سے واقف ہیں۔ لہذا نماز ختم ہونے کے بعد زید نے کہا بھائی صاحب میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں آپ برا تو نہیں مانیں گے تو امام صاحب نے جواب دیا کہ میں بُرا نہیں مانوں گا کہوتو ۔۔۔ زید کے دل میں کچھ دوسرا خیال تھا امام کے بارے میں عقائد کے متعلق زید نے سوال کیا کہ آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں کہا ہتھوڑا دیو بند وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں یا بریلی شریف وغیرہ سے لہذا پیش امام صاحب اپنے کم علم ہونے کی بنا پر سوال کا جواب نہ دے پائے بہر حال زید نے کہا دیکھئے بھائی صاحب نماز نہیں درست ہوئی دہرائی جائے تو امام صاحب نے کہا کہ کیوں نماز درست نہیں ہوئی تو زید نے کہا کہ آپ نے فلاں فلاں جگہ غلطیاں کی ہیں جو او پر مذکور ہیں تو جماعت میں ایک قاری صاحب بیٹھے ہوئے تھے وہ فورا اٹھے اور کہنے لگے کہ ہاں نماز میں ایک چھوٹی سی غلطی ہوگئی ہے اور نماز پڑھانا شروع کر دی اور فرض نماز پڑھانے کے بعد فورا بولے کہ بھائی غلطی نماز میں تھی تو فورا بتا دینا چاہئے تھا عقائد وغیرہ پوچھنے کی کیا ضرورت تھی تو زید نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم تھا تو میں نے پوچھ لیا۔ تو
الجواب: عقائد کے متعلق زید کا پوچھنا کچھ مضایقہ نہیں رکھتا بلکہ ناواقلی کی بنا پر اگر اسے کچھ شک تھا تو پوچھنا ضروری تھا اس پر قاری مذکور کا اعتراض درست نہیں اور نماز اس امام کے پیچھے نادرست ہے کہ وہ غلط پڑھتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القولی دار الافتاء منظر اسلام بریلی شریف ۱۰ / جمادی الاولی ۱۴۰۳ھ