ایک رکوع کی آیات کو دو رکعتوں میں تقسیم کرنا اور درمیان سے ایک آیت قصداً چھوڑنے کا حکم
ایک رکوع میں سے پہلی تین آیت پہلی رکعت میں پڑھی پھر ایک آیت چھوڑ کر تین آیت دوسری رکعت میں پڑھی نماز ہوئی یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : امام صاحب جمعہ کی نماز میں پندرہویں پارہ کی سورہ بنی اسرائیل کا ایک رکوع ” اقم الصلوۃ لدلوك الشمس الى غسق اللیل “ سے ” من لدنک سلطانا نصیرا “ تک تین آیت پہلی رکعت میں پڑھا اور دوسری رکعت میں ایک آیت یعنی "وقل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا“ چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد ” و ننزل من القرآن ما هو شفاء “ سے شروع کر کے ”بمن هو اهدی سبیلا“ تک پڑھا نماز ختم کر دی۔ اس پر زید نے کہا کہ مولانا صاحب نے ایک ہی رکوع کو دو رکعت میں پڑھا لیکن دوسری رکعت میں ایک آیت چھوڑ دی اس پر مولانا صاحب نے کہا کہ میں نے جان بوجھ کر قصداً چھوڑ دی کیونکہ پہلی رکعت میں تین آیت پڑھا تو اسی مناسبت سے دوسری رکعت میں بھی تین ہی آیت ہو جائے اس کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ نماز ہوئی یا نہیں جواب باصواب سے مطلع فرما کر آگاہی بخشیں۔ فقط ! والسلام المستفتی: علی حسن، فیٹر مائن ۸ ڈاکخانہ سیال کولوری ضلع ہزاری باغ بہار
الجواب: نماز ہوگئی قصداً آیت کو درمیان سے چھوڑ نا نہ چاہئے تھا مکروہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ /شعبان ۱۴۰۲ھ