بے وجہ شرعی جماعت چھوڑنا اور جماعت شرعیہ کی توہین کرنا
بے وجہ شرعی جماعت کا چھوڑنا اور جماعت شرعیہ کی تو این کرنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک صاحب کے یہاں ایک استفتاء آیا تھا اس میں امام صاحب پر الزام تھا کہ مولانانے جانتے ہوئے یہ نکاح پڑھایا ہے جس کی طلاق نہیں ہوئی جعلی طلاق نامہ ہے اور زید کا انگوٹھا بغیر بتائے لے لیا ہے۔ واللہ مجھے معلوم نہیں ، یہ طلاق نامہ جعلی ہے یا صحیح ہے میں نے تو طلاق نامہ دیکھا جو مبارک علی شاہ نے لکھا اور عدت گزرنے کے بعد جو نکاح ہوا اس میں مبارک علی شاہ کا بھائی وکیل بنانہ تو مبارک علی شاہ نے بتایا اور نہ مبارک کے بھائی نے یہ بات ظاہر کی آج چار سال کے بعد جبکہ مبارک اور زید کے خسر میں نا اتفاقی ہے تو یہ بغاوت میں نکاح پڑھایا لیکن طلاق نامہ دیکھ کر اور لوگوں کی شہادت سے پڑھایا اس پر آپ کے یہاں سے فتوی گیا مجھے بدنام کیا گیا اس پر مجھے کیا کرنا چاہئے؟ جوحکم شرع ہو وہ تحریر کیا جاوے۔ اور جو لوگ جماعت ہو رہی ہے اور علیحدہ نماز پڑھتے ہیں اور کھلم کھلا جماعت سنت کی تو ہین فرماتے ہیں انکے لئے کیا حکم ہے فقط بینوا تو جر مرا۔ لمستفتی: خادم عبدالوہاب، موضع بدھولیا امام مسجد نگر یا ضلع بریلی
الجواب: اگر فی الواقع یہ صورت مسئولہ ہے تو آپ پر الزام نہیں ۔ یہاں سوال کے مطابق جواب دیا جاتا ہے سوال صورت حال کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ صورت حال کو بدلنا حرام ہے جو بھی اس کا مرتکب ہو وہ سخت گنہ گار ہے والعلم عند اللہ بے وجہ شرعی جماعت چھوڑ نا گناہ ہے۔ بخاری شریف جلد اول ص ۸۹ میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے: ان رسول الله الله قال والذي نفسي بيده لقد هممت ان أمر بحطب ليحطب ثم أمر بالصلوة فيؤذن لها ثم أمر رجلا فيؤم الناس ثم اخالف الى رجال فاحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم احدهم انه يجد عرقا سميناً او مرماتين حسنتين لشهد العشآ () حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اللہ اسلام نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ کچھ لوگوں کولکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں پھر نماز کیلئے اذان کہنے کا حکم دوں پھر کسی کو حکم دوں کہ وہ امامت کرے اسکے بعد انہیں چھوڑ کر ان لوگوں کی طرف جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں اور ان کے گھروں کو جلا ڈالوں ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے یہ لوگ اگر یہ جانتے کہ فربہ ہڈی اور عمدہ گوشت بھری ہڈیاں پائیں گے تو ضرور عشاء میں شریک ہوتے۔ اور جماعت شرعیہ کی توہین کفر ہے۔ شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصرص ۱۷۴ میں ہے: من اهان الشريعة او المسائل التي لا بد منها كفر (۲) جس نے شریعت مطہرہ یا اسکے کسی مسائل قطعیہ کی توہین کی تو اس نے کفر کیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله