بلا عذر شرعی جماعت اولی چھوڑنا اور مسجد میں دوسری جماعت قائم کرنا
بلا عذر شرعی جماعت اولی چھوڑنا اور جماعت ثانیہ قائم کرنا کیسا ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زیدا کثر و بیشتر جب جماعت ہو جاتی ہے تب آتا ہے اور اندرون مسجد ہی ایک دو آدمیوں کے ساتھ دوسری جماعت بآواز بلند قرآت پڑھتا ہے اور جو نمازی سنت و نفل ووتر وغیرہ پڑھتے ہوتے ہیں ان کی نماز میں خلل پڑتا ہے جب زید سے کہا گیا تو طرح طرح کی تاویلیں کرنے لگتا ہے جیسے محرم کے ڈھول بجتے ہیں اور بیاہ شادی کے لاوڈ اسپیکر بھی تو بجتے ہیں ۔ فقط
الجواب: لمستفتی: حاجی دیدار بخش صاحب، متولی جامع مسجد فتح گنج غربی بریلی شریف زید پر لازم ہیکہ جماعت اولی میں حاضر ہو بلا عذر شرعی جماعت اولی چھوڑ نامنع ہے (۲) جماعت ثانیہ یہ عذر شرعی جائز ہے مگر نوافل وسنن پڑھنے والوں کا خیال ضروری ہے۔ ردالمحتار، جلد اول، ص ۶۶۰ میں ہے: اجمع العلماء سلفا و خلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها الا ان يشوش جهر هم علی نائم أو مصل او قارئ الخ (1) یعنی تمام علماء متقدمین و متاخرین نے مساجد اور غیر مساجد میں اجتماعی طور پر ذکر بالجہر کو مستحب بتایا ہے بشرطیکہ ان کا بلند آواز سے ذکر کرنا سونے والوں یا نماز پڑھنے والوں یا تلاوت کرنے والوں کیلئے تکلیف کا باعث نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ