جماعت سے نماز پڑھنا واجب، بلا عذر شرعی ترک جماعت گناہ اور فاسق کی اقتدا کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: زیدسنی بریلوی عالم ہے جو اپنی عدیم الفرصتی اور کثرت کار کے باعث و نیز اپنی تنہائی اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور ذریعہ معاش (کاروبار) کی وجہ سے نماز پنجگانہ مسجد میں جا کر باجماعت نہیں پڑھتا بلکہ اکثر اپنے مکان ہی پر نماز پنجگانہ ادا کرتا ہے ویسے نماز با جماعت کی فضیلت سے بخوبی واقف ہے اور ایک سنی مسجد میں نماز جمعہ وعیدین کیلئے بحیثیت خطیب مقرر ہے لہذا برائے مہربانی یہ ارشاد فرمایا جائے کہ زید موصوف کے پیچھے نماز جمعہ وعیدین پڑھنا جائز ہے اور اس کا نماز جمعہ وعیدین پڑھانا جائز و درست ہے یانہیں؟
الجواب: المستفتی: عبد العظيم رضوی جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے۔ ہندیہ میں ہے: الجماعة سنة مؤكدة كذافى المتون والخلاصة والمحيط و محیط السرخسی وفى الغاية قال عامة مشائخنا انها واجبة وفى المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة) یعنی خلاصہ ، متون، محیط وغیرہ میں ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنا سنت مؤکدہ ہے اور غایۃ الفتاویٰ میں ہمارے علماء مشائخ کا کہنا یہ ہے کہ یہ واجب ہے اور مفید میں اسکی وجہ تسمیہ بیان کی ہے اس کا وجوب سنت سے ثابت ہے اسلئے اس کو سنت کہتے ہیں ۔ اور در مختار میں ہے: الجماعة سنة مؤكدة للرجال قال الزاهدى أرادوا بالتاكيد الوجوب الافى جمعة وعيلو) (1) (۲) الفتاوى الهندية ، جلد اول كتاب الصلوة الباب الخامس في الامامة الفصل الاول في الجماعة ص ۱۴۰ ، دار الفکر بيروت الدر المختار ، جلد ۲، کتاب الصلوة باب الامامة ص ۲۸۸ ، دار الكتب العلمية بيروت اور بلا عذر شرعی جماعت کا ترک گناہ ہے اور اس کا عادی فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (1) یعنی ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کا اعادہ ضروری ہے۔ اور اسے امام ہی بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون (٢) یعنی جو لوگ فاسق آدمی کو امام بنا ئیں گے وہ گنہگار ہوں گے۔ جمعہ وعیدین کا بھی یہی حکم ہے جبکہ کسی غیر فاسق کے پیچھے مل سکے ورنہ جمعہ وعیدین میں فاسق کی اقتدا جائز ہے۔ ہندیہ میں ہے: الفاسق اذا كان يؤم يوم الجمعة وعجز القوم عن منعه قال بعضهم يقتدى به في الجمعة ولا تترك الجمعة بامامته (۳) یعنی جمعہ میں جبکہ امام فاسق ہو اور قوم اسے منع پر قادر نہ ہو تو چاہئے کہ اسکی اقتدا کرے اور اسکی امامت کی وجہ سے جمعہ ترک نہ کرے اور عذر شرعی سے اگر جماعت کا ترک ہو تو الزام نہیں مثلاً مال کے تلف ہونے کا خوف یا بال بچوں پر تنہائی میں اندیشہ یا مریض کی گھبراہٹ کے خیال سے جماعت ترک کر دے تو الزام نہیں کاروبار میں مشغولیت یہ عذر شرعی نہیں جبکہ مال کے تلف کا اندیشہ نہ ہو، جماعت میں دکان بند کر کے شریک ہونا لازم ہے یونہی بال بچوں کی دیکھ بھال جب تک گھر میں عورتیں نگراں ہوں اور اندیشہ نہ ہو تو یہ عذر نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم جمعہ وعیدین کے امام کا ماذون به اقامت جمعہ وعیدین ہونا شرط ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ثم لوجوبها شرائط و منها السلطان عادلا كان او جائراً هکذافی التتارخانيه ناقلا عن النصاب أو من امره السلطان وهو الامير أو القاضي او الخطباء کذافی العینی شرح الهداية حتى لا تجوز اقامتها بغير أمر السلطان و امر نائبه کذافی محیط السرخسی (۱) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ / رمضان المبارک ۱۴۹۶ھ