امام کے ساتھ مسبوق یا مدرک کے ثنا پڑھنے کا حکم ! امام کے سکنات میں ثنا پڑھنا ممنوع ہے اہر رکعت کے شروع میں تسمیہ پڑھنے کا حکم ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید نماز میں اس وقت شریک ہوا جبکہ امام قعدہ اولی یا اخیرہ میں ہے اور زید نے ثنا نہ پڑھی تو اب وہ کب ثنا پڑھے گا اور اگر نانہ پڑھے گا تو نماز ہوگی یا نہیں اور شنا نماز میں کیا فرض ہے؟ (۲) زید نماز میں اس وقت شریک ہوا جبکہ امام قرآت کر رہا ہے کیا زید امام کے سانس لیتے وقت یعنی ایک سانس پر ثنا کا ایک ٹکڑا دوسری سانس پر دوسرا ٹکڑا اور اسی طرح ثنا پڑھ لے یہ درست ہے؟ تو اس کا ثبوت واضح طور پر بیان فرمائیں۔ المستفتی : فیروز رضا
الجواب: امام کے ساتھ جو رکعتیں پڑھے ان میں ثانہ پڑھے امام کے بعد اپنی چھوٹی ہوئی رکعت میں ثنا اور تعوذ تسمیہ پڑھے کہ یہ اسکے حق میں پہلی رکعت ہے اور محل قرآت ہے اور تعوذ امام اعظم و امام محمد کے نزد یک تابع قرآت ہے وہی مختار ہے۔ غنیہ میں ہے: اما المسبوق فلایاتی به عندهما الا بعد مفارقة الامام لانه محل قرأته - الخ (۲) الفتاوى الهندية ج ا ، كتاب الصلوة الباب السادس العشر في صلوة الجمعة، ص ٢٠٦ ، دار الفكر بيروت غنية المستملى شرح منية المصلى ، باب صفة الصلوة، ص ۳۰۴، سهیل اکیڈمی لاهور پاکستان نیز غنیہ میں ہے: ” مختار قاضی خان والهداية وشروحها والكافي والاختيار واكثر الكتب هو قولهما انه تبع للقرأة وبه نأخذ ) اور تسمیہ ہر رکعت کے شروع میں پڑھنے کا حکم ہے: ثم بعد التعوذ يسمى أى يقرأ بسم الله الرحمن الرحيم فيأتي بها اى بالتسمية في اول كل ركعة‘ (۲) ثناء پڑھنا مسنون ہے بغیر ثناء کے بھی نماز ہو جائے گی مگر بلاضرورت ترک سنت کی اجازت نہیں عادت ڈالنے سے گنہگار ہوگا (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) شنا اسی وقت تک پڑھ سکتے ہیں کہ امام قرآت بآواز شروع نہ کرے جب قرآت جہری شروع کر دی اب خاموش رہنا اور سننا فرض ہے۔ غنیہ میں ہے: واذا ادرک الشارع الامام وهو يجهر بالقراءة لا يأتى بالثناء بل يستمع وينصت للآية“ ملتقطا ( ) صحیح مذہب میں امام کے سکتات میں ثنا پڑھنا ممنوع ہے۔ غنیہ میں ہے: الاصح هو القول الاول انه لا يأتى به مطلقا لا طلاق النص (ه) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ رشوال المکرم