نسبندی کرانے کا شرعی حکم اور نماز کی صف میں کھڑے ہونا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: جس شخص نے رضا مندی سے نسبندی کرائی اور وہ نماز میں بھی صف میں کھڑا ہو تو صف والوں کی نماز میں کوئی کراہت ہوتی ہے یا نہیں؟ اور جسکی زبر دستی نسریر کی کی گئی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ المستفتی محمود عالم موضع پدارتھ ہر ضلع بریلی شریف
۲۶ / ذی الحجہ ۱۳۹۸ھ نسبندی کرانانا جائز و حرام ! صف اول میں کھڑے ہونے سے کسی کو ممانعت نہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: جس شخص نے رضا مندی سے نسبندی کرائی اور وہ نماز میں بھی صف میں کھڑا ہو تو صف والوں کی نماز میں کوئی کراہت ہوتی ہے یا نہیں؟ اور جسکی زبر دستی نسریر کی کی گئی ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ المستفتی محمود عالم موضع پدارتھ ہر ضلع بریلی شریف الجواب: نسبندی خوشی سے کرانے والا گنہگار ہے تو بہ کرے اسلئے کہ اس میں اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز کو بدلنا ہے اور قرآن وحدیث کی نص سے یہ نا جائز و حرام ہے۔ قرآن عظیم میں اللہ ارشاد فرماتا ہے: وَلَا مُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللهِ یعنی شیطان بولا میں ان کو بہکاؤں گا تو وہ اللہ کی پیدا کر دہ چیزوں کو بدلیں گے۔ اسی کے تحت تفسیر صاوی میں ہے: من ذلك تغيير الجسم اور اسی میں سے جسم کی تغییر ہے۔ اور تفسیر کبیر میں ہے: ان معنی تغییر خلق الله ههنا هو الاخصاء الخ یعنی اس آیت میں تغییر خلق کا معنی خصی کرنا وغیرہ ہے نیز مشکوۃ شریف کی حدیث میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: ليس منا من خصی و لا اختصی یعنی جس نے دوسرے انسان کو خصی کیا یا خود شخصی ہوا وہ ہم میں سے نہیں۔ اور جس نے مجبوراً کرائی اس پر الزام نہیں۔ صف اول میں کھڑے ہونے سے کسی کو ممانعت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ