امامت تراویح کی اجرت، مسجد کی چھت پر جماعت کی کراہت اور دیگر مسائل
اجرت صرف نائب پیش امام کے لحاظ سے ادا کریں گے امامت تراویح کا کوئی معاوضہ نہ دیا جائے گا آیا یہ صورت جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو کس طرح جائز ہوسکتی ہے جواب عنایت فرمائیں۔ دیگر عرض یہ ہے کہ مسجد کی چھت پر گرمی کی بنا پر جماعت قائم کرنا فتاوی رضویہ سوم و عالمگیری میں مکروہ لکھا ہے آیا یہاں کراہت تحریمی ہے یا تتر یہی ؟ فرض جماعت کیلئے یہ حکم ہے یا ہر جماعت کیلئے ؟ نماز پڑھنا حوض وغیرہ فصیل میں بھی چھت کا ہی حکم رہے گا ؟ چین والی گھڑی سے نماز مکروہ تحریمی ہونے پر کیا دلیل ہے؟
الجواب: المستفتی: ولی محمد رضوی خطیب مسجد ، مقام و پوست باسی ضلع نا گور راجستھان یہ صورت جائز ہے، بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم ص ۲۷۱، رضا اکیڈمی ممبئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور کراہت سے مراد کراہت تحریمی ، جیسا کہ عالمگیریہ کے جزئیہ منقولہ سے صاف ظاہر ہے اور ہر جماعت کا اور منفرد کی نماز کا حکم یکساں ہے۔ مسجد کی چھت پر اجازت نہیں مگر اس صورت میں جبکہ مصلی زیادہ ہوں اور نیچے نہ سمائیں تو باقی ماندہ اوپر چڑھ سکتے ہیں فتاویٰ رضویہ جلد سوم ص ۵۷۵ رضا اکیڈمی ممبئی ۔ اور عالمگیریہ میں ہے: الصعود على سطح كل مسجد مكروه و لهذا اذا اشتد الحريكره ان يصلوا بالجماعة فوقه الا اذا ضاق المسجد فحينئذ لا يكره الصعود على سطحه لضرورة كذافى الغرائب (1) اور حوض وغیرہ فنائے مسجد کے اوپر بھی اجازت نہ ہوگی کہ فنائے مسجد کا حکم بھی حکم مسجد رکھتا ہے۔ ہندیہ میں ہے: والفناء تبع المسجد فيكون حكمه حكم المسجد کذا فی محیط السرخسی (۲) واللہ تعالیٰ اعلم چین کی کراہت تحریمی ہے۔ احکام شریعت، فتاویٰ رضویہ اور شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصرص ۱۶۹ میں ہے: والجمهور من المتأخرين جوز واتعليم القرآن بالاجرة (1) میں منصوص ہے ملاحظہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ