بلا ضرورت ایک ہی مسجد میں جمعہ کی دوسری جماعت کرنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک ہی مسجد میں دوبارہ نماز جمعہ وعیدین ہوسکتی ہے؟ جبکہ جماعت کثیر ہواور مسجد سے باہر بارش و دھوپ کی شدت کی وجہ سے صف کا انتظام کرنا دشوار ہو، ایک عالم نے فرمایا کہ ایک مسجد میں دوبارہ نماز جمعہ ہو سکتی ہے جبکہ امام محراب میں کھڑا نہ ہو اور اذان نہ کہی جائے حوالہ میں بہار شریعت حصہ سوم ص ۱۳۰ کی درج ذیل عبارت کو پیش کرتے ہیں۔ اگر بے اذان جماعت ثانیہ ہوئی تو حرج نہیں جبکہ محراب سے ہٹ کر ہو اور اسی کی روشنی میں جمعتہ الوداع کی نماز دوبارہ ہوئی عالم مذکور سے جب ایک صاحب نے دریافت کیا اور بتایا کہ بہار شریعت کی اس عبارت پر نماز جمعہ کو قیاس کرنا درست نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے یہاں کے حالات کے پیش نظر ایسا کیا اگر دوبارہ جماعت کی اجازت نہ دی جاتی تو فساد ہو جا تا۔اس لئے لڑائی جھگڑا سے بچنے کیلئے میں نے ایسا کیا جبکہ اسی مسجد کے انتظامیہ کمیٹی کے صدرو سکریٹری نے بتایا کہ فتنہ و فساد کا کوئی اندیشہ نہیں تھا ہم نے ان سے مشورہ لیا اور انہوں نے جواز کی صورت پیش کی اور حوالہ بھی دکھایا لہذا ہم لوگوں نے دوسری جماعت کا اعلان کیا۔ کیا عالم مذکور کا یہ فعل درست تھا ؟ اگر نہیں تو جب لوگوں نے دوبارہ نماز جمعہ ادا کی ان کی نماز کا کیا ہوگا؟ المستفتی محمد انیس الرحمن معرفت نورانی بک ڈپوری ۱۴ ڈی مارکیٹ بردوان بنگال
الجواب: (1) بلاضرورت دو جماعت کرنے کی اجازت نہیں ۔ درمختار میں ہے: ویكره تكرار الجماعة الخ )) الدر المختار، ج ۲۸۸ ، ۲ ، كتاب الصلوة، باب الامامة ، دار الكتب العلميه بيروت جماعت کثیر ہو تو قریب قریب صفیں بنائیں اور ایک دوسرے کی پشت پر سجدہ کر لیں پھر بھی اگر کچھ لوگ بچے رہیں تو دوبارہ نماز عید صحیح ہوگی به شرطیکہ امام ماذون بها قامت جمعہ وعید نماز پڑھائے بحوالہ فتاوی رضویہ جلد سوم ص ۸۰۳ رضا اکیڈمی ممبئی ۔ عالم کو اگر صحیح اندیشہ فتنہ کا تھا تو ان پر الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ