ایک ہی مسجد یا عید گاہ میں عید کی دوسری جماعت قائم کرنے اور خطبہ جمعہ سن کر نماز چھوڑنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: ایک شخص نے عید کے روز جماعت اولیٰ کے وقت اعلان کیا کہ عید کی دوسری جماعت بھی ہوگی کیونکہ وہ ایک امام سے کہہ چکے تھے کہ ہم دوسری جماعت کریں گے اگر چہ پانچ ہی آدمی کیوں نہ ہوں جماعت اولی میں تقریباً چار سو آدمی شامل ہوئے اور اس نے دوسری جماعت قائم کی اس میں تقریبا پینس آدمی شامل ہوئے وہ بھی اس طرح ہوئے کہ ان میں کچھ وہ تھے جو پہلی جماعت میں نماز پڑھ چکے تھے وہ اس لئے شریک ہوئے کہ جماعت ثانیہ کے امام نے لوگوں کو یہ بھی بتایا تھا جو دوبارہ جماعت میں شریک ہوگا اسے دو رکعت نماز نفل کا ثواب ملے گا ، جس امام نے جماعت اولی پڑھائی اسی نے تراویح بھی پڑھائی تھی اور یہ امام سنی صحیح العقیدہ با شرع ہے اور جو لوگ جماعت ثانیہ میں شریک ہوئے وہ جماعت اولیٰ کے امام کے پیچھے اپنی نماز صحیح و جائز جانتے ہیں اور برابر اسکے پیچھے پڑھتے ہیں لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ عید کی نماز ایک ہی مسجد یا عید گاہ میں دو مرتبہ ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور جو او پرلکھا ہے اسکے مطابق کرنے والوں پر شریعت کا کیا حکم ہے اور نماز عید کی دوسری جماعت جس امام نے پڑھائی وہ جمعہ کی نماز میں بھی شامل تھا لیکن خطبہ سن کر مسجد سے چلا گیا اس پر لوگوں کا اعتراض ہے کہ وہ خطبہ کے بعد گئے انہوں نے نا جائز کیا جبکہ امام جمعہ خطبہ وغیرہ صحیح پڑھتا ہے لہذا ایسے شخص کیلئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ مطلع
الجواب: جماعت جماعت اولیٰ ہی ہے اسی کی شرع مطہرہ نے تاکید فرمائی ہے اور بلا عذرا سکے ترک : وعید شدید حدیث میں آئی ہے بے عذر شرعی جماعت اولیٰ چھوڑ نا نا جائز و گناہ ہے اور اس پر اصرار گناہ در گناہ۔ (۱) جس نے بے وجہ جماعت ثانیہ کی ضد کی گناہ گار ہے تو بہ کرے اور اسکے ہم نوا بھی تو بہ کر یں پھر اگر عید کی دوسری جماعت امام ماذون نے پڑھائی تو عید کی نماز ہوگئی اور نہ عید کی نماز ہی صحیح نہ ہوئی اور دہرا گناہ ہوا وہ امام جس نے بے وجہ شرعی امام لائق امامت کی اقتداء چھوڑی اور مسجد سے خروج کیا گناہگار ہے تو بہ کرے ورنہ امامت کے لائق نہیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ويشترط للعيدمايشترط للجمعةالاالخطبة كذافي الخلاصة الخ (۲) اور اسی میں ہے: ولادائها شرائط فى غير المصلى ومنها السلطان او من أمره السلطان وهو الامير او القاضي او الخطباء کذا فی العینی شرح الهدایة (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله (1) الفتاوى الرضوية ، ج سوم، ص ۳۵۴، مطبع رضا اکیڈمی ممبئی (۲) الفتاوى الهندية، جلد اول كتاب الصلوة الباب السابع العشر في صلوۃ العیدین، ص ۲۱۱ دار الفکر بيروت (۳) الفتاوى الهندية جلداول ، كتاب الصلوة الباب السادس عشر في صلوة الجمعة ، ص ۲۰۵/۲۰۶ دار الفکر بيروت