دیہات میں جمعہ کی نماز اور ظہر احتیاطی کی شرعی حیثیت کا بیان
میں دیہات کے مسلمان کیا کریں؟ اس سلسلہ میں سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول کیا ہے؟ تحریر فرمائیں! زید جو کہ عالم دین ہے اس نے اپنے حلقہ ورد میں جمعہ کی نماز کے فوراً بعد با جماعت اقامت کہہ کر ظہر احتیاطی پڑھنے کا حکم دیا ہے اور چند سال سے اس پر عمل بھی ہو رہا ہے تو کیا ایسا کرنا درست ہے اگر درست ہے تو ایسی صورت میں جمعہ کی جو سنتیں ہیں وہ پڑھی جائیں یا ظہر کی جو سنتیں ہیں وہ پڑھی جائیں ایسا مفصل اور مدلل جواب تحریر فرمائیں کہ دیہات میں جمعہ سے متعلق مسائل میں ان کی وضاحت بھی ہو جائے اور دل کو سکون بخش جواب بھی حاصل ہو جائے۔ المستلقی : نذیر احمد رضوی مظفر پوری خادم دار العلوم اہلسنت رضائے مصطفی شیرانی پورہ رتلام ، ایم پی
الجواب: فی الواقع ہمارے مذہب حنفی میں جمعہ وعیدین دیہات میں درست نہیں ۔ ہمارے مذہب میں صحت جمعہ کیلئے شہر یافتائے شہر شرط ہے اور شہر وہ جگہ ہے جہاں متعدد گھی کو چے دوامی بازار ہوں اور وہ جگہ ضلع یا پرگنہ ہو جس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور ایک خاص شرط یہ کہ وہاں حاکم رہتا ہو جو اپنی شوکت وحشمت سے ظالم سے مظلوم کا انصاف لے سکے۔ حدیث شریف میں ہے: ” لا جمعة ولا تشريق ولا صلاة فطر ولا أضحى الا في مصر جامع او مدينة عظيمة (1) اہزاد یہات والوں پر اس دن ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھنے سے ادا نہ ہوگا بلکہ ذمہ پر رہے گا۔ مگر جہاں عوام پہلے سے جمعہ پڑھتے چلے آئے ہوں وہاں مصلحتا مندرجہ سوال کے پیش نظر انہیں روکا نہیں جائے ۔ عوام جس طرح خدا کا نام لیں غنیمت ہے اور عالم مذکور کا عمل درست ہے مگر دیہات میں ظہر احتیاطی نہیں ۔ ظہر احتیاطی خواص کے لئے اس جگہ ہے جہاں کی مصریت میں انہیں شک ہو۔ اور دیہات میں جمعہ نہیں وہاں ظہر فرض ہے لہذا دور کعت قیام جمعہ پڑھ کر چار فرض ظہر کی نیت سے جماعت کے ساتھ (1) البناية شرح الهداية ، ج ، ٣ كتاب الصلوۃ، باب صلوة الجمعة ، ص ۴۴ ، دار الكتب العلمية بيروت ادا کریں۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ رذی الحجہ ۱۴۰۱۱ھ