سمجھ دار بچے کو پہلی صف سے نکالنے اور ستونوں کے درمیان صف بنانے کا حکم
(1) ایک لڑکا نو یا دس سال کا ہوگا اور وہ نماز پڑھتا ہے، اب جب جماعت ہوتی ہے اس وقت اس کو پہلی صف سے نکالا جاتا ہے، یعنی پیچھے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ تو کیا یہ بات ٹھیک ہے اور اگر ٹھیک ہے تو کیا دلیل ہے؟ اور اگر نہیں تو کیسے؟ اور کتنے سال کا لڑکا جماعت کی پہلی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے؟ برائے مہربانی با تفصیل اور باحوالہ ثابت کیجیے۔ (۲) ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ مسجد کے بیچ میں اکثر تھام ہوتے ہیں، اور تھام کے بیچ بیچ میں جگہ رہتی ہے تو ان جگہوں میں نماز کی صف باندھنا منع ہے۔ کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ حوالہ دیجیے۔
الجواب: (1) سمجھ والے بچے کو صف سے نکالنا منع ہے عوام اکثر اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لہذا احتراز چاہیے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) ستون کے درمیان صف بنانا مکروہ تنزیہی ہے۔ بے عذر ایسی جگہ کھڑا ہونا نہ چاہیے جہاں کسی حال سے قطع صف ہو۔ عالمگیری میں ہے: ينبغي للقوم اذا قاموا الى الصلوة ان يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف (1) مگر جب تنگ ہو تو کراہت تنزیہی بھی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ القوی (۱) الفتاوى الهندية، ج ۱، ص ۱۴۶ ، كتاب الصلوة الباب الخامس فى الامامة الفصل الخامس في بيان مقام الامام والمأموم، دار الكتب العلميه بيروت