بے وجہ شرعی مسجد کی حاضری چھوڑ نا سخت گناہ ، وبال عظیم کا موجب ہے ابے وجہ شرعی کسی کو برا کہنا، مارنا سخت گناہ ظلم و جفا ہے!
علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ: زید اور بکر دو شخص نے ایک گاؤں کے امام صاحب کے بارے میں ایک مسئلہ حل کرایا تو اس میں امام صاحب پر اور زید پر تو بہ کا حکم آیا تھا جب یہ مسئلہ جمعہ کی نماز میں پیش کیا گیا تو زید نے اور امام صاحب دونوں نے تو بہ کر لی مگر بعد نماز جمعہ کچھ لوگوں نے اس بات کو تو ہین سمجھ کر زید اور بکر کو برا بھلا کہا اور مارنے کو لیا تو زید اور بکر مسجد چھوڑ کر چلے گئے اور اس دن سے زید اور بکر مسجد میں نماز پڑھنے نہیں آتے ہیں اور ان کے سارے گاؤں کے قریب سینکڑوں آدمی نماز پڑھنے مسجد میں نہیں آرہے ہیں حتی کہ نماز جمعہ تک چھوڑ گئے اور کچھ لوگ نماز پڑھنے والے بے نمازی ہو چکے ہیں ۔ اب زید اور بکر سے گاؤں کے تمام لوگ خوشامد کر کے کہہ رہے ہیں اور یقین دے رہے ہیں کہ آپ لوگ نماز پڑھنے مسجد میں آؤ مگر وہ لوگ نہیں آ رہے ہیں اور نہ ہی گاؤں کے لوگوں کو آنے دے رہے ہیں کیونکہ اگر وہ آجائیں تو سب گاؤں کے لوگ مسجد میں نماز پڑھنے آسکتے ہیں اور جماعت ترک نہیں کر سکتے۔ فی الواقع زید اور بکر کے بارے میں کیا
الجواب: فی الواقع اگر زید و بکر بے وجہ شرعی مسجد کی حاضری اور جماعت کو چھوڑے ہوئے ہیں تو سخت گناہ گار مستحق نار ہیں اور لوگوں کو روک کر اور زیادہ وبال شدید و نکال عظیم کے مستوجب ہیں، تو یہ کریں اور جماعت کی پابندی کریں اور اگر وجہ شرعی سے ایسا کر رہے ہیں تو اُن پر الزام نہیں اور زید و بکر کو جنہوں نے بے وجہ بُرا کہا اور مارنے کو لیا سخت گناہ گار ظالم جفا کار مستحق عذاب شدید نار ہوئے تو بہ کریں اور زید وبکر سے معافی چاہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ / ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ