ناف کے نیچے ہاتھ نہ باندھنے، دوران قرات بدن کی حرکت اور مسافر کے مکمل نماز پڑھانے کا حکم
ناف کے نیچے ہاتھ نہ باندھنے کی ضد بے جا تعسف ہے ! حکم شرع سن کر ہٹ چھوڑنا لازم ! وقت قرآت سر، گردن یا بدن بلا نا درست نہیں ! مسافر چار رکعتی فرض کو چار رکعت پڑھے تو گنہگار ہوگا! مسافر اگر چار رکعت فرض پڑھائے تو مقتدیوں کی نماز نہ ہوگی ! مشغل کے پیچھے مفترض مقتدی کی نماز نہیں ہوگی ! کیا حکم ہے شریعت مقدسہ کا مسائل مندرجہ میں کہ: (1) زید اپنے آپ کو شفی اور مسلک اہل سنت و جماعت کا عالم کہتا ہے اور ایک مسجد کا امام ہے مگر وہ نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے نہ باندھ کر یا تو پیٹ پر باندھتا ہے یا ناف پر۔ جب زید سے کہا گیا کہ آپ اس طرح ہاتھ کیوں باندھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جس کو نماز پڑھنی ہو وہ پڑھے، میں اسی طرح ہاتھ باندھوں گا، کیا پیٹ یا ناف پر ہاتھ باندھنے سے نماز نہیں ہوتی ؟ یہ امام مذکور (زید) کے قول ہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا کہنا کہاں تک درست ہے؟ اور اگر اُن کا قول غلط ہے تو شریعت مطہرہ کا اُن پر کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا (۲) زید جب جہری نماز میں امامت کرتا ہے تو وقت قرآت سر، گردن اور پورا بدن حرکت کرتا رہتا ہے۔ کیا امام کا یہ فعل درست ہے؟ (۳) زید امامت کی غرض سے آیا عشاء کی نماز میں اُس نے کہا کہ میں ابھی مسافر ہوں، کل چلا جاؤں گا عمرو تم نماز پڑھا دینا مگر عشاء کی نماز خود زید نے ۴ رکعت مکمل پڑھائی۔ پھر پانچ دن تک پڑھانے کے بعد واپس ہو گیا۔ پھر ہفتہ بھر بعد آیا۔ نیز زید نے یہ بھی کہا تھا کہ میں یہاں کا جائزہ لینے آیا
الجواب:المستفتى : علاؤالدین ، گل منڈی بھیلواڑی ( راجستھان)(1) بر تقدیر صدق سوال زید کا یہ کہنا محض تعسف ہے اسے مطابق شرع عمل ضروری ہے اور حکم شرع سن کر ہٹ چھوڑ نالازم ہے۔ اگر شرعاً اس کا یہ قول ثابت ہے تو وہ سخت فاسق ہے اس کی اقتدا سے پر ہیز ضروری ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۳) فی الواقع اگر زید مسافر تھا جیسا کہ اس کے اقرار سے ظاہر ہے یعنی اس جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ تھی تو اسے قصر پڑھنا لازم تھا کہ اس کا فرض اس صورت میں دو رکعت ہی تھا وہ چار پڑھے گا، گناہگار ہوگا اور از انجا کہ دورکعت اخیرہ میں وہ محض متنفل تھا تو مقتدیوں کی نماز اس کے پیچھے نہ ہوئی۔واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله۴ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھصح الجوابواللہ تعالیٰ اعلمقاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی