داڑھی منڈے کی امامت اور اس کے پیچھے نماز کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اسلام اس مسئلہ میں کہ: داڑھی منڈے کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ نماز پڑھا دے امام کے نہ ہونے پر ،لوگوں کے کہنے سے تو مقتدی کی نماز ہو جائینگی یا نہیں ؟ اور خود اس امام کی ؟
داڑھی منڈانا یا حد شرع سے کم کرانا حرام ہے !، داڑھی منڈے کی نماز اور اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے ! جہاں سب داڑھی منڈے ہوں ، لوگ تنہا تنہا نماز پڑھیں ! داڑھی منڈے کو امام بنا نا گناہ ہے! الجواب: داڑھی منڈانا یا حد شرع سے کہ قدر یکمشت ہے، کم کرانا حرام ہے۔ درمختار میں ہے: وو يحرم على الرجل قطع لحيته )) اسی میں ہے: وو والسنة فيها القبضة“(۲) اسی میں ہے: اما الأخذ منها وهى دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه احد وأخذ كلها فعل يهود الهند و مجوس الأعاجم (۳) اور داڑھی منڈے کی نماز و امامت مکروہ تحریمی ہے اور اس کا اعادہ واجب ہے۔ اسی در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها ) اور جہاں نرے داڑھی منڈے ہوں اور کوئی لائق امامت نہ ہو اس جگہ لوگ تنہا نماز پڑھیں، داڑھی منڈے کو امام نہ بنا ئیں کہ وہ فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے۔ تبیین میں ہے: لأن في تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته شرعاً (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۱۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی