فاسق معلن کی امامت اور اس کی اذان کا حکم اور اس کے بھرے ہوئے پانی کا استعمال
میں کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما ئیں ۔ المستفتی :محمدخلیل الرحمن رضوی مدرسه منظر اسلام سوداگران بریلی شریف
الجواب: زید کا جرم اگر شرعی طور پر ثابت و مشتہر ہے تو وہ فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے اور اذان اسکی مکروہ و نامعتبر ہے اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو اس کا اعادہ کیا جائے۔ "لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) ،، اسی میں ہے: ”جزم المصنف بعدم صحة اذان مجنون و معتوه وصبى لا يعقل قلت وكافر وفاسق لعدم قبول قوله في الديانات - اھ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم اور وضو وغیرہ اس کے بھرے ہوئے پانی سے جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله