امامت کے لیے عقائد کی تحقیق اور غلط قرات پر نماز کا حکم
بارے میں عقائد کے متعلق۔ زید نے سوال کیا کہ آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں کیا ہتھوڑ او یو بند وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں یا بریلی شریف وغیرہ سے؟ لہذا پیش امام صاحب اپنے کم علم ہونے کی بنا پر سوال کا جواب نہ دے پائے ہر حال زید نے کہاد یکھئے بھائی صاحب نماز درست نہیں ہوئی ، دہرائی جائے تو امام صاحب نے کہا کہ کیوں نماز درست نہیں ہوئی ؟ تو زید نے کہا کہ آپ نے فلاں فلاں جگہ غلطیاں کی ہیں (جو او پر مذکور ہیں ) تو جماعت میں ایک قاری صاحب بیٹھے ہوئے تھے وہ فوراً اٹھے اور کہنے لگے کہ ہاں نماز میں ایک چھوٹی سی غلطی ہو گئی ہے اور نماز پڑھانا شروع کر دی اور فرض نماز پڑھانے کے بعد فورا بولے کہ بھائی غلطی نماز میں تھی تو فورا بتا دینا چاہئے تھا عقا ئد وغیرہ پوچھنے کی کیا ضرورت تھی تو زید نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم تھا تو میں نے پوچھ لیا۔ تو علمائے کرام اس کا جواب جلد عنایت فرمائیں کہ شریعت محمدی کے نزدیک زید کا پوچھنا درست تھا عقائد کے متعلق؟ اور زید کا یہ کہنا بھی درست تھا کہ نماز نہیں ہوئی ؟ اور شریعت محمدی کے نزدیک پیش امام صاحب اور قاری صاحب کا کیا حکم ہے۔ عقائد کے متعلق جو قاری صاحب کا اعتراض ہے وہ درست ہے یا نہیں؟
عقائد کے متعلق زید کا پوچھنا کچھ مضایقہ نہیں رکھتا بلکہ ناواقفی کی بنا پر اگر اُسے کچھ شک تھا تو پوچھنا ضروری تھا اس پر قاری مذکور کا اعتراض درست نہیں اور نماز اس امام کے پیچھے نادرست ہے کہ وہ غلط پڑھتا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاءمنظر اسلام بریلی شریف ۱۰ / جمادی الاولی ۱۴۰۳ھ