امام کی اجازت کے بغیر مؤذن کا جماعت کھڑی کر دینا اور بلا علم فتویٰ دینے کی ممانعت
معلوم کیا کہ آج چند منٹ پہلے جماعت کے لئے کیسے کھڑے ہو گئے؟ اگر ۵ رمنٹ انتظار نہ کئے تو کم از کم وقت بھی تو ہو جانے دیتے ؟ مؤذن صاحب نے جواب دیا: ہم نے انتظار کیا۔ امام نے کہا کہ: کہاں انتظار کیا کہ ہماری گھڑی سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے جبکہ ہمیشہ اس گھڑی کے مطابق نماز پڑھتے آرہے ہیں تو مؤذن صاحب نے جواب دیا کہ فلاں کی گھڑی میں زیادہ ہو گیا تھا پھر امام نے کہا کہ اس کی گھڑی سے مطلب کیا؟ جب اس گھڑی سے نماز پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد مؤذن صاحب فوراً بولے کہ آپ ۵ منٹ پہلے کیوں نہیں آئے ؟ پہلے آئے ہوتے۔ تو امام نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات ہے؟ ہم ۲ سال سے وقت مقررہ پر آتے ہیں اور نماز پڑھاتے ہیں۔ مؤذن صاحب نے ایسا کبھی نہیں کیا، یہ آج پہلی مرتبہ ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کا جو حکم ہو، وہ ارشاد فرما ئیں۔ بہت جلد عنایت کریں۔ فقط والسلام المسلطنی: محمد شمس الحق اسلامیہ اسکول ، قصبہ نیور یا حسن پور، پیلی بھیت
الجواب: صورت مسئولہ میں امام مسجد و ماذون مقرر کی بغیر مرضی کے نماز پڑھانا ممنوع تھا اگر چہ نماز ہوگئی۔ حدیث میں ہے: ”لا یؤ من الرجل الرجل في سلطانه ) جن لوگوں نے کہا کہ نہ ہوئی ، غلط مسئلہ بتایا اور گنہگار ہوئے۔ بے علم فتویٰ دینا حرام ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ”من افتی بغیر علم لعنته ملائكة السموات والارض “(۲) جو بے علم فتوی دے، اس پر آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳ رذی قعده ۱۳۹۶ھ (1) الصحيح المسلم، ج ۱، ص ۲۳۶ ، باب من احق بالامامة كتاب المسجد مجلس بركات (۲) کنز العمال ، ج ۱، ص ۸۴ ، حدیث نمبر ۲۹۰۱۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت