منصب امامت پر مقرر ہوتے ہوئے تنخواہ کی طمع سے مؤذن کی تنخواہ پر حق جمانے والا اور تبلیغی امام کا حکم
(1) مولانا فخر عالم صاحب جو کہ جامع مسجد کے عرصہ دراز سے امام ہیں لیکن مؤذن کے انتقال کے بعد انہوں نے لالچ کی بنا پر مؤذن کی خدمت بھی لے لی جبکہ ہمارے یہاں مؤذن کی خدمت اذان دینا ہی نہیں بلکہ مسجد کی جاروب کشی ، غسل خانہ صاف کرنا، پیشاب گھر صاف کرتا ، اگر کوئی غلاظت کر گیا تو صاف کرنا یہ سب کام مؤذن کے ہیں۔ مولانا فخر عالم صاحب یہ سب کچھ کرتے ہیں اور رہا سہا بھشتی کا کام بھی مسجد میں لے لیا۔ ایسے امام کی امامت جو کہ نالیاں صاف کرے وغیرہ وغیرہ جائز ہے یا مکروہ تنزیہی یا تحریمی؟ جواب سے سرفراز فرمائیں۔ (۲) جو امام جامع مسجد ہو اور وہ تبلیغی جماعت سے تعلق ہی نہیں بلکہ پروگرام بنا کر دیگر مساجد شہر جادرہ میں روانہ کرے ساتھ کھائے پیئے اور بعد نماز جمعہ صلوٰۃ وسلام کے لئے منع بھی کرے اور اپنے کوسنی بھی کہے ۔ کیا سنی مسلمانان شہر جادرہ کی ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟ اور ایسے امام کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ جواب سے سرفراز فرما ئیں ۔ فقط لمستفتی: حافظ بھورو
الجواب، اللهم بداية الحق والصواب : (1) امام مذکور نے اگر یہ منصب مؤذن کا تنخواہ دار ہوتے ہوئے زبردستی اس کی تنخواہ پر حق جمانے کے لئے سنبھالا ہے تو ظالم ہے اور سخت گنہ گار ہے اور اب لائق امامت اپنے فسق کی وجہ سے نہیں۔ غنیہ میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون) اور اگر مؤذن ہنوز نہیں رکھا گیا تو اس پر الزام نہیں ۔ ہاں اذان کے علاوہ بعض دیگر ایسے کام جن سے تحفیر جماعت ہوا سے نہ کرنا چاہئے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) ایسا شخص ہر گز لائق امامت نہیں۔ اس کے عقائد کی تحقیق کی جائے اور تو بہ لی جائے اور اگر اپنے اقوال و افعال سے تائب نہ ہو تو امامت سے معزول کر دیا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ جمادی الاخرمی ۱۳۹۶ھ قد صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی