بلا اجازت امام دوسرے کی امامت اور نکاح خوانی کا نذرانہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: امام صاحب نماز پڑھاتے ہیں، ان کے مقتدیوں کو متابعت کرنا چاہئے یا نہیں؟ امام صاحب چالیس سال سے اس مسجد میں نماز پڑھا رہے ہیں، اپنے یہاں کی مسجد چھوڑ کر باہر بھی تنخواہ پر نہیں جانا چاہتے ہیں، اور اپنے یہاں مدت سے فی سبیل اللہ بغیر تنخواہ کے پڑھاتے آئے ہیں۔ اتفاق سے ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اذان کی آواز امام صاحب تک نہیں پہنچی اور وقت مقررہ سے دس منٹ زیادہ ہو گئے ۔ جب امام صاحب مسجد کو گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے شخص نے نماز باجماعت پڑھادی اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ امام مقرر کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کا نماز پڑھانا صیح ہے جبکہ وقت میں گنجائش ہو؟ وہی امام صاحب نکاح بھی پڑھاتے ہیں، اب یہ بتادیجئے کہ اگر امام صاحب مکان پر نہیں ہیں کسی
الجواب: المستفتی : قادری رضوی احمد خان چمن نگر یا، ڈاکخانہ رتنا تحصیل نواب گنج، بریلی مسجد محلہ کا جبکہ کوئی امام مقرر ہے، جامع شرائط ہے تو اس کی بلا اجازت دوسرے کو امام نہ بننا چاہئے ۔ حدیث میں ہے: لايؤ من الرجل الرجل في سلطانه (1) اور نکاح خوانی کے نذرانے کا مستحق وہی ہو گا جس نے نکاح پڑھایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی