امام کا اوقاتِ جماعت کی پابندی نہ کرنا، نازیبا کلمات کہنا اور مقتدیوں کے ایمان پر شک کرنے کا حکم
امام صاحب سے مسجد والوں نے یہ عرض کی کہ آپ وقت کا خیال فرمائیں ، جماعت میں انتشار پھیلنے کا خوف ہے اور اگر آپ سے امامت کی ذمہ داری نہیں ہو پائے گی تو آپ استعفیٰ دیں۔ بعدہ جمعہ کا دن آیا امام صاحب نے اپنی تقریر میں سب ذیل باتیں کہیں: (۲) جو لوگ میرے بارے میں بازاروں میں غیبت کرتے ہیں ، وہ گنہگار ہیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے بارے میں فرماتا ہے: اللہ تعالیٰ بھی ان لوگوں کے لئے خفیہ تدبیر فرماتا ہے۔ ایسے ہی میں بھی ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں اور سوچتا ہوں۔ اس سے قبل بھی مدرسہ احمدیہ میں ایک مولانا صاحب رہتے تھے، وہ بھی مدرسہ کے صدر سکریٹری کی پوجا پاٹ کر کے مجھے یہاں سے ہٹانا چاہتے تھے اور اپنا اقتدار جمانا چاہتے ہیں ۔ کسی عالم کی طرف پوجا پاٹ کی نسبت کرنا کیسا ہے؟ (۳) میمن ( کچی ) سنی مسلمانوں کے متعلق یہ کہا کہ یہ تو ابھی حال میں ایمان لائے ہیں کیا پتہ کل ایمان سے پھر جائیں۔ اس طرح کہنے والے پر کیا حکم ہے؟ (۴) کسی عالم دین کی غیبت کرنا جبکہ لوگ ان کی تعریف کرتے ہوں، کیسا ہے؟ (۵) وقت کی پابندی رسول اللہ صلی اللہ نے نہیں کی، صحابی بیٹھے رہتے تھے، جب آپ تشریف لاتے تو جماعت ہوتی تھی، ایسے ہی میں نوکر نہیں ہوں ، آزاد ہوں، جب چاہوں گا نماز پڑھاؤں گا، میں میٹی کی پابندی پر نہیں ہوں۔ اس طرح کہنا یا کرتا باب نماز میں درست ہے یا نہیں؟ مع حوالہ تحریر فرما ئیں۔ (1) جھوٹ بولنے والے کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں؟ جبکہ بار بار جھوٹ بولتا ہو۔ اگر درست نہیں تو جتنی نمازیں پڑھی گئیں ، کیا لوٹا ناواجب ہے؟
الجواب: (1) امام کو اوقات جماعت کا لحاظ کرنا ضروری ہے اور بے وجہ شرعی وقت کی پابندی نہ کرنا مقتدیوں کی آواز کا باعث ہے اور ان کے انتشار و تفرق کا سبب ہے اور اس کی غیبت اور بدگوئی کا سبب ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اس سے باز آئے اور لوگوں کو بدگوئی میں مبتلا نہ کرے ورنہ ان کی بدگوئی کا گناہ اسی پر ہوگا۔ اور یہ جو اُن سے کہا کہ ایسے ہی میں بھی ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں“ بہت سخت ہے۔ کہ اپنے جانے کو اللہ کے جاننے سے تشبیہ دی۔ اس پر اس جملہ سے بھی تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) امام کو دوسرے امام کے متعلق وہ جملہ نہ کہنا چاہئے تھا اور اس کی بدگوئی سے بچنا لا زم ، وہ لوگوں کو اپنی بدگوئی سے روکتا ہے اور دوسروں کی بدگوئی میں خود مبتلا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ تو اس کے لئے بھی محتمل ہے کہ ایمان سے پھر جائے اس میں میمن لوگوں کی ہی کیا تخصیص ہے؟ اور اس سے کیا حاصل سوائے اس کے کہ لوگ اس سے نفرت کریں۔ یا ضد میں آکر معاذ اللہ دین سے نفرت پر اُتر آئیں تو اس کا وبال اس کے سر بھی آئے۔ سرکا را بد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے: بشروا ولا تنفروا)) خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔ امام مذکور پر لازم ہے کہ اس حدیث پر عمل کرے اور نفرت دلانے سے تو بہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۴) غیبت اشد حرام کبیرہ وعظیم گناہ ہے۔ اور عالم کی غیبت بہت سخت تر ہے مرتکب پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اس پر لازم ہے کہ ثبوت دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقت کی پابندی نہ کرتے تھے اور اگر نہ ثبوت دے سکے تو اس کا مفتری و کذاب ہونا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر بہتان باندھنا ظاہر و آشکار ہے، اپنے تساہل کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جڑ دینا سخت جرات ہے۔ اس پر اس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) جھوٹ بولنا حرام ہے اور علانیہ اس کا مرتکب فاسق اور اس کی اقتداء مکروہ تحریمی ہے۔ یعنی اس کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله