بدمذہبوں کے خیالات باطلہ رکھنے والے کی امامت ممنوع وگناہ ! امور شرعیہ کے خلاف ضد کرنا فسق ہے ! عقائد اہل سنت کے خلاف ہٹ دھرمی کفر ہے!
سوال
عالی جناب مولانا محمد ریحان رضا خانصاحب دار العلوم منظر اسلام !
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (1) پیش امام اگر بد مذہبوں کے خیالات باطلہ رکھتا ہے تو اس کی امامت ممنوع و گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) شرارت یا امور شرعیہ کے خلاف ضد کرتا ہو تو سخت فاسق بھی ہے۔ بلکہ اگر ضروریات دین و عقائد اہل سنت کے خلاف ہٹ دھرمی کرے تو یہ کفر عظیم ہے والعیاذ باللہ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۶۳–۳۶۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
امام کا اوقاتِ جماعت کی پابندی نہ کرنا، نازیبا کلمات کہنا اور مقتدیوں کے ایمان پر شک کرنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
فتویٰ کی توہین، داڑھی منڈانے والے امام اور اس کے حامیوں کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
کندھوں سے نیچے بال رکھنا حرام ، رکھنے والا فاسق ہے کہ اس میں عورتوں سے مشابہت ہے جو موجب لعن ہے ! فاسق معلن کی اقتدا مکروہ تحریمی، نماز واجب الاعادہ ہے! سرکار علیہ السلام کے گیسوئے مبارک کی تفصیل !
باب: کتاب الصلوٰۃ
دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنے، ان سے تعلقات رکھنے اور ان کے عقائد کے بارے میں شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بلا اجازت امام دوسرے کی امامت اور نکاح خوانی کا نذرانہ
باب: کتاب الصلوٰۃ