دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنے، ان سے تعلقات رکھنے اور ان کے عقائد کے بارے میں شرعی حکم
دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا؟ کافر و تعظیما سلام کرنا کفر ہے ! بدعتیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں! کافر پر نماز فرض نہیں تو اس کے پیچھے نماز باطل ، انہیں دانستہ امام بنانا کفر !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
دیو بندیوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ ہم اہل سنت و جماعت کے ہوتے ہوئے اس کے پیچھے ہماری نماز ہوگی یا نہیں؟ اس کا قرآن اور حدیث سے حوالے دے کر جواب تحریر فرما ئیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ان سے سلام کلام کر سکتے ہیں کہ نہیں۔ تیسر اسوال یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں ؟ حوالے کے ساتھ جواب تحریر کریں تا کہ یہ مسئلہ ہم لوگوں کی سمجھ میں آئے اور سکون ہو۔
لمستفتی: عبدالمجيد ٹیلر ماسٹرس مبر بازار، گوشت مارکیٹ، پوسٹ درگا پور- ۶ ضلع بردوان ( بنگال)
دیو بندی ضروریات دین کے انکار اور اہانت خدا تعالیٰ و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سبب ایسے کافر مرتد بیدین ہیں کہ جو اُن کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین اور کافر کو سلام حرام بلکہ کفر ہے جبکہ تعظیماً سلام کرے۔ در مختار میں ہے: (ولو سلم على الذمى تبجيلا يكفر) اور ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ فتح القدیر میں ہے: ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز (۲) کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۳) اور جزئیہ گزشتہ در بارہ سلام سے انہیں دانستہ امام بنانے کا حکم ظاہر اور یہ کہ انہیں دانستہ امام بنانا کفر ہے کہ تعظیم کا فر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف ۵/ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ