نسبندی حرام ہے ! ہے جبر و اکراہ نسبندی کرانے والا لائق امامت نہیں !بعد تو بہ امامت کر سکتا ہے ! ایسے کی اذان بھی مکروہ ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: قصبہ اسلام پور ضلع جھجون میں ایک ہی مسجد ہے سب مسلمان اس ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں ۔ کچھ عرصہ سے یہاں پر بھی وہابیت کی لہر چل رہی ہے مسئلوں کے متعلق نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں جس سے جاہل طبقہ میں شک و شبہات پیدا ہورہے ہیں، روزانہ نئے نئے پرو پیگنڈے ہوتے رہتے ہیں۔ آج کل ایک نیا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ جو نمازی امامت ، اقامت اور مؤذن کی شرع کی رو سے سب شرطیں پوری نہیں کرتا ہے اگر اس نمازی نے نسبندی کرائی ہوئی ہے تو وہ نمازی امامت، اقامت اور مؤذن کا اہل نہیں کیونکہ یہ ایک نئی چیز ہے اور نہ ابھی تک کوئی مسئلہ اس کے متعلق دیکھنے میں یا سننے میں آیا ہے ایسی حالت میں برائے مہربانی بواپسی ڈاک قرآن وسنت کی روشنی میں اس کے لئے کیا حکم ہے؟ تفصیل سے مطلع فرمائیں ۔ المستفتى : عبدالرحمن خاں اسلام پور ضلع جنجون (راجستھان)
الجواب: نسبندی حرام ہے، بد کام بد انجام ہے، ہم نے بفضلہ تعالیٰ اس کی حرمت پر مفصل فتویٰ لکھ کر نسبندی کے دور میں چھاپا وہ ہمراہ مرسل ہے جس کے متعلق شرعی طور پر ثابت ہو کہ اس نے بخوشی بے جبر و اکراہ شرعی نسبندی کرائی ، وہ سخت گنہ گار ہوا۔ اس پر تو بہ فرض ہے جب تک تو بہ نہ کرے، اسے امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم )) اذان واقامت بھی اس سے کہلوانا مکر وہ ممنوع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ رذی قعدہ ۱۴۰۶ھ