میلاد و سلام نہ کرنے والے اور تبلیغی کی امامت کا حکم اور مسجد کے قریب دوسری جماعت کا قیام
محترم المقام واجب الاحترام حضرت مولانا مفتی صاحب قبلہ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته بعد خیر ۔ حضرت مفتی صاحب ! ایک مسئلہ سامنے آ گیا ہے۔ برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔ (1) جو امام میلا د و سلام قیام نہ کرتا ہو، اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ (۲) ہمارے گاؤں میں ایک ہی مسجد ہے جس میں وہ امام نماز پڑھاتا ہے۔ اس صورت میں ہم عید بقر عید جمعہ کی نماز کیسے ادا کریں؟ اور کچھ دور کے علاقے میں بھی اچھے امام نہیں ہیں۔ سب ویسے ہی ہیں۔ اور تبلیغ میں جاتا ہے برائے مہربانی ان سب سوالات کا جواب صاف تحریر فرمائیں۔ (۳) مسجد میں نماز ہورہی ہو اور مسجد کے بغل میں ایک خانقاہ ہے جو مسجد سے تقریبا ملی جلی ہے اس میں بھی جماعت کے ساتھ نماز ایک ہی ساتھ ہوتی ہے۔ اور دونوں امام کی قرآت بھی ٹکراتی ہے تو ایسی حالت میں خانقاہ والوں کی نماز ہوگی یا نہیں ؟ فقط ۔ والسلام المستفتی: محمد سید رضوی، بنڈیل، ہیلی
الجواب: (۱، ۲) فی الواقع اگر وہ شخص سلام و قیام و نیاز وفاتحہ وغیر با معمولات اہلسنت کو حرام و ناجائز جانتا ہے اور اسی بنا پر یہ معمولات نہیں کرتا تو سخت بد مذہب وہابی گمراہ بیدین ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ فتح القدیر میں ہے: " ان الصلاة خلف اهل الاهواء لاتجوز (1) اور ایسے لوگوں میں یہ علت بھی غالباً ہوتی ہے کہ اکابر دیوبند ( جنہوں نے اللہ ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور ضروریات دین کے منکر ہوئے ،جس پر علمائے حرمین شریفین مصر و شام و ہندو سندھ نے انہیں ایسا کافرو بیدین کہا کہ جو انہیں مسلمان سمجھے بلکہ انکے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے) کو اپنا مقتدا جانتے مانتے ہیں۔ اگر فی الواقع وہ امام ان دیو بندیوں کا مقتدی بھی ہے تو قطعی کا فر ہے اور اس کی اقتد اباطل اور نماز فاسد۔ کفایہ میں ہے: "والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (٢) لہذا اسکی اقتدا سے سخت پرہیز فرض اور دیہات والوں پر جمعہ وعیدین نہیں۔ جمعہ کے دن ظہر پڑھیں۔ (۳) نماز ہو جائے گی مگر خانقاہ والوں کو مسجد کی حاضری بے وجہ شرعی چھوڑ نا اور بلاوجہ جماعت کا ترک کرنا حرام ہے اور اگر وجہ شرعی ہو تو الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ ؍ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ