امامت کے مسائل، والدین کے حقوق کی پامالی اور فاسق کی امامت کا حکم
روپیہ نماز پڑھانے میں کاٹ لئے۔ جو پیش امام یہ کہے کہ نماز پڑھانے کا محنتانہ لوں گا تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے کہ نہیں ؟ انہی امام صاحب کی والدہ صاحبہ مانگتی ہیں اور امام صاحب کو خیال نہیں بلکہ ماں کو اپنی نظر میں کچھ نہیں سمجھتے ہیں تو لوگوں نے کہا کہ امام صاحب آپ کی والدہ اس طرح سے مانگتی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہئے کہ آپ کو پالا پوسا ہے تو امام صاحب نے لوگوں کو جواب دیا کہ ماں باپ کا فرض ہے کہ پالیں پوسیس میرا خود گزارہ نہیں ہوتا میں کس کو دیکھوں؟ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں میں خوب اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ اس کا جواب تو میں دوں گا آپ لوگوں کو تھوڑی دینا ہے اللہ تعالیٰ کے یہاں میں دوں گا۔ تو ایسے شخص کا شرعاً کیا حکم ہے؟ (۵) کیا کنوارے کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ ہمارے یہاں حافلا صاحب کنوارے ہیں اور پاک صاف بھی ہیں۔ ایسے شخص پر اگر پیش امام کوئی دھبہ لگا تا ہے کہ کنوارے کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے تو پیش امام صاحب کا شرعاً کیا حکم ہے؟ جواب عنایت کیا جائے ۔ تو کیاحکم عنایت ہے
الجواب: المستلنتی : حافظ محمد شفیق خاں معرفت نواب خاں سرولی، موضع چکر پورتحصیل شاه آباد ضلع را مپور (1) امام فی الواقع اگر ایسی عورت کو رکھے ہوئے ہے جو غیر کی منکوحہ ہے تو سخت گنہگار ظالم جفا کار مستحق غضب جبار مستوجب عذاب نارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے۔ اس پر لازم ہے کہ فوراً اسے چھوڑ دے اور اس فعل سے تائب ہو ، جب تک وہ تائب نہ ہو، نالائق امامت ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: ،، لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم )) در مختار میں ہے: ”کل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ کلمہ اس کا بہت سخت ہے، تو بہ کرے ورنہ امامت سے معزول کیا جائے۔واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس پر لازم ہے کہ مشین والے کو مشین کی قیمت دے اور اپنی جاہلا نہ بکواس سے تائب ہو نیز اس شخص سے جس کا قرض دینے میں تاخیر کی اور اس سے حجت کی ، معافی چاہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۴) امامت کی تنخواہ طے کر سکتا ہے اگر چہ احوط یہ ہے کہ وقت کی اجرت طے کرے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مقتدی سے وہ اجرت ومحنتانہ وصولے، اس پر لازم ہے کہ جس مقتدی کے روپے اس کے پاس ہیں، اسے جلد واپس کرے ورنہ سخت گنہ گار ظالم جفا کار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اس کی ماں کی طلب پر اسے اپنی محتاج ماں کو پیسہ دینا ضرور ہے، ماں کو ایذا پہنچانا حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) امامت کے لئے سنی صحیح العقیدہ مسائل طہارت و نماز و امامت سے آگاہ متقی پرہیز گار غیر فاسق آدمی درکار ہے، کنوارا ہو یا بیا ہا۔ امام مذکور کا یہ کہنا کہ کنوارے کے پیچھے نماز نہیں ہوگی ، غلط و باطل اور شریعت پر افتراء ہے جس سے اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ ؍رجب المرجب ۱۳۹۶ھ هذا هو حق وصحيح وصواب و المجيب سلمه الله تعالى نجيح و مصیب و مثاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی