بد مذہبوں کو برحق جاننے والا اقراری بد مذہب ہے، لائق امامت نہیں ! بد عقیدوں کے پیچھے نماز نہیں!
معظم و مکرم جناب مفتی اعظم ہند رام علیکم السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالی و برکاته دام ! گزارش عرض یہ ہے کہ ایک شخص کی عمر تقریباً ساٹھ سال کے قریب ہوگئی اس کے پہلے انہوں نے کچھ دنوں مدرسہ میں تعلیم بھی حاصل کی یعنی دیو بند اور مدرسہ حمیدیہ بنارس سے لیکن سند کہیں سے حاصل نہیں کر سکے اور وہاں سے آنے کے بعد انہوں نے قوم کو بھی ستانا شروع کیا مثلاً کسی نے کچھ روپیہ کا لالچ دیا اسی کی طرف سے اس پارٹی کو ہلاک بھی کیا۔ لہذا ایسا کام برابر ہی ہوتا رہا۔ کچھ دنوں کے بعد جب طاقت کی کمی ہوئی اور زمانہ ساتھ نہ دیا تو اپنے مولوی ہونے کا اعلان فرمایا۔ لہذا حضرت سے یہ گزارش ہے کہ ابھی وہ مسجد کے ممبروں پر کھڑے ہو کر غلط تفسیر بھی کر دیا کرتے ہیں اور اپنے کو اس طرح کہتے ہیں کہ ہم اہل سنت والجماعت کے ہیں، اور غیر مقلدوں کے ساتھ اسی کی طرح ہو جاتے ہیں ، ان کی میتوں کی نماز پڑھاتے ہیں، قراۃ کے ساتھ ان کے ساتھ تراویح پڑھتے ہیں، آٹھ رکعت ، اور اہل سنت
الجواب:وہ اقراری بد مذہب ہے کہ خود کہتا ہے کہ ”ہم سنی کے ساتھ ہیں اور غیر مقلد کے ساتھ اسی کی طرحہو جاتے ہیں ۔ اور بد مذہب کو امام بنانا حرام اور اس کی اقتدا ممنوع۔ہمارے امام اعظم کا فتویٰ ہے:ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز ) واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله۲۶ رشوال المکرم ۱۳۹۹ھ