زمانہ ماضیہ کے گناہوں کی وجہ سے بعد تو بہ امامت سے روکا نہ جائیگا ! تو بہ کے بعد اس گناہ سے عار دلانا جائز نہیں !
نحمدہ و نصلی علی رسوله الکريم بسم الله الرحمن الرحيم بخدمت حضور مفتی اعظم ہند قبلہ وکعبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ پر کہ: زید اپنے ماضی میں سدا گانجہ پیتا تھا۔ پھر اللہ نے اسے تو بہ کی توفیق بخشی ۔ اب زید سنی صحیح العقیدہ اور پابند شریعت ہے اور عامتہ المسلمین زید کو نیک تسلیم کرتے ہیں۔ مگر چند فتنہ پرداز اسی بات کو لے کر فتنہ پردازی کرتے ہیں۔ زید نے خدمت دین کے جذبہ کے تحت یہاں قریب میں واقع ایک مزار شریف کے پاس مسجد قائم کرنے کی نیت سے نماز با جماعت قائم کر دی ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہیں :
الجواب: (۱، ۲) زید اگر صحیح الطہارت صحیح القرآة غير فاسق عالم بہ مسائل ضرور یہ طہارت و نماز ہے تو اس کی امامت جائز ہے اور اس کی مخالفت بے جا حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ رذی قعدہ ۱۴۰۶ھ صح الجواب۔ تو بہ صحیحہ کے بعد اس گناہ سے عار دلانا ناجائز ہے اور وعید شدید ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی